تھیلیسیمیا کے مریضوں کو 18 سال سے خون دینے والا مسیحا

کچھ لوگوں کے لئے دوسروں کے دکھ درد کواپنا سمجھنا اورانسانیت کی خدمت کرنا ہی زندگی کا اصل مقصد ہے ۔ اسی جذبے سے سرشارایک خدمت گارگزشتہ 18 برس سے تھیلیسیمیا کے مرض میں مبتلا بچوں کیلئے خون فراہم کرراہا ہے۔


موجودہ زمانے کو نفسا نفسی کا دور کہا جاتا ہے۔ یہاں ہربندہ اپنی مصروفیات میں مگن ہے مگرعبدالحمید انسانیت کو بچانے کیلئے سرگرم ہے۔ کوئی پھول مرجھا نہ جائے ،اس لئے یہ فرشتہ صفت انسان دن رات تھیلیسیمیا میں مبتلا بچوں کیلئے خون اکھٹا کررہا ہے۔

ہزاروں مریضوں کے مسیحا خود بھی 40 بار خون دے کر کئی قیمتی جانیں بچا چکے ہیں۔ عبدالحمید مایوسی کے دہانے پر کھڑے مریضوں میں پھر سے جینے کی امید جگا رہے ہیں۔

پاکستان میں خون کے ضرورت مندوں کی تعداد 2 لاکھ سے زائد ہے جو ہر وقت درد مندوں کی راہ تکتے رہتے ہیں۔ لوگ باتیں کرتے رہ جاتے ہیں لیکن عبدالحمید حقیقی معنوں میں خون دے کر تھیلیسیمیا کے مریض بچوں کے گلاب چہرے نکھار رہے ہیں۔



آپ کیلئے تجویز کردہ خبریں‎‎