کہیں جانے کی ضرورت نہیں،گھر بیٹھیں اور پیسے کمائیں، وزیرخزانہ نے پاکستانی نوجوانوں کو زبردست خوشخبری سنادی

وزیرخزانہ اسد عمر کا کہنا ہے کہ پاکستان میں با صلاحیت نوجوانوں کی ایک بڑی تعداد فری لانسنگ شعبے سے وابستہ ہے اور ماہانا کروڑوں ڈالر بیرون ملک سے پاکستان لاتے ہیں۔


وفاقی وزیر اسد عمر نے کہا کہ پے پال مجھ سمیت کسی حکومتی ادارے یا اسٹیٹ بینک کی ڈیسک پر نہیں رکا ہوا، ہم نے تو اس حوالے سے اقدامات اٹھائے ہیں۔انہوں نے کہا کہ جو نوجوان گھر بیٹھے کام کرتے ہیں ان کے لیے یہ روزگار کا زبردست ذریعہ ہے، پے پال یا کوئی اچھا آن لائن پیمنٹ سسٹم نہ ہونے سے انہیں مشکلات ہورہی ہیں۔

 ان کا کہنا تھا کہ انہیں پے پال کی ضرورت ہے۔کہ اس وقت پاکستان میں باصلاحیت نوجوانوں کی ایک بڑی تعداد ہے لیکن انہیں بیرون ملک مقیم کلائنٹس سے لین دین کے لیے پے پال جیسے پلیٹ فارم کی ضرورت ہے جس حوالے سے جلد خوشخبری ملے گی۔

اسد عمر نے بتایا کہ پے پال کے سی ای او کو پیغام بھجوایا ہے کہ ہمارے نوجوانوں کے لیے بہت ضروری چیز ہے، ان سے ملاقات کے لیے خود امریکا آنے کا بھی کہا ہے، ابھی اس پر بات چیت شروع ہوئی ہے۔ اسد عمر کا کہنا تھا کہ حالانکہ میرا پے پال سے کوئی واسطہ نہیں لیکن مجھے معلوم ہے کہ یہ ہمارے نوجوانوں کے لیے روزگار کا ایک زبردست ذریعہ ہے۔

اس کے علاوہ چین کی ویب سائٹ علی بابا سے بھی بات چیت ہو رہی ہے۔واضح رہے اس سے قبل بھی ماہِ ستمبر میں وزیر خزانہ اسد عمر یہ دعویٰ کر چکے ہیں کہ پاکستان میں جلد پے پال متعارف کروایا جائے گا۔ اور اس سلسلے میں کچھ ملاقاتیں کی ہیں اور میں بہت پر امید ہوں کہ اگلے تین سے چار ماہ میں پے پال یا اس کا متبادل پلیٹ فارم پاکستان میں متعارف کراد یا جائے گا۔



آپ کیلئے تجویز کردہ خبریں‎‎