قتل کا ملزم 10 سال بعد بری، چیف جسٹس کا قانونی سقم پر اظہار برہمی

سپریم کورٹ آف پاکستان نے قتل کے الزام میں عمر قید کا سامنا کرنے والے ملزم اسفند یار کو جرم ثابت نہ ہونے پر 10سال بعد بری کردیا اور مجسٹریٹ کے رویے پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے انہیں ذاتی حیثیت میں طلب کر لیا ہے۔


چیف جسٹس آصف سعید کهوسہ کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے کیس کی سماعت کی جس میں استغاثہ کی جانب سے مقدمہ ثابت نہ کیے جانے پر عدالت نے ملزم اسفند یار کو باعزت بری کردیا۔

لاہور کے رہائشی عادل بٹ کو 2009 میں قتل کر کے اس کی لاش کو نہر میں پهینک دیا گیا تها اور اسفند پر عادل کے قتل کا الزام تھا۔

ٹرائل کورٹ نے ملزم اسفند یار کو سزائے موت سنائی تھی تاہم ہائی کورٹ نے ملزم کی سزائے موت کو عمر قید میں تبدیل کر دیا تھا۔

البتہ سپریم کورٹ نے استغاثہ کی جانب سے کمزور شواہد اور مقدمہ ثابت کرنے میں ناکامی پر ملزم اسفند یار کو بری کرنے کے احکامات جاری کردیے۔

اس موقع پر چیف جسٹس آف پاکستان نے مقدمے میں قانونی سقم اور قانونی تقاضے پورے نہ کیے جانے پر مجسٹریٹ پر برہمی کا اظہار کیا۔

انہوں نے ریمارکس دیے کہ مجسٹریٹ نے شناخت پریڈ درست نہیں کی اور قانونی تقاضے پورے نہیں کیے، ایک بچہ قتل ہو گیا اور مجسٹریٹ کی جانب سے غلط شناخت پریڈ اور قانونی تقاضے پورے نہ ہونے کی وجہ سے ملزم کو سزا ہو گئی۔

چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ نے مجسٹریٹ کنور انوار علی کو 22 فروری کو ذاتی حثیت میں طلب کر لیا۔

چیف جسٹس نے مقدمے کی کارروائی پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ایسے کیس دیکھ کر بہت افسوس ہوتا ہے، ایسا سلوک کیوں کیا جاتا ہے؟۔

چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ نے مقدمے میں موجود قانونی سقم کا تذکرہ کرتے ہوئے سوال کیا کہ کیا مجسٹریٹ لگانے سے پہلے ان کی تربیت نہیں ہوتی جس پر وکیل نے جواب دیا کہ مجسٹریٹ کی تعیناتی سے قبل باقاعدہ کورسز کروائے جاتے ہیں۔

انہوں نے ریمارکس دیئے کہ ہم روز قتل کیسز میں دیکهتے ہیں پولیس اصل ملزم تک پہنچ جاتی ہے لیکن دراصل ملزم اصلی اور شہادتیں سب نقلی ہوتی ہیں۔ ایسا لگتا ہے ملزم گرفتار ہوا اور پهر شہادتیں بنائی گئیں۔

آصف سعید کھوسہ نے کہا کہ ان مقدمات میں ایسا ہی ہوتا ہے پہلے ملزم گرفتار ہوتا ہے اور پهر شہادتیں بنائی جاتی ہیں، اگر ہم بهی آنکهیں بند کر دیں تو قانون کدهر جائے گا۔

عدالت میں وکیل نے جرح کرتے ہوئے کہا کہ ملزم کی گرفتاری کے بعد پتا چلا کہ اس نے لاش نہر میں پهینکی ہے جس پر چیف جسٹس نے پوچھا کہ پولیس ملزم تک کیسے پہنچی؟۔

انہوں نے مقدمے میں کمزوریوں کی نشاندہی کرتے ہوئے کہا کہ ایک گواہ کہتا ہے کہ اس نے چار بندوں کو نہر میں لاش پهینکتے ہوئے دیکها جبکہ دوسرے گواہ کے مطابق دو بندوں نے لاش کو نہر میں پهینکا۔

چیف جسٹس نے کہا کہ ہم عدالتی قانون سے ہٹ کر فیصلہ نہیں دے سکتے، استغاثہ مقدمہ ثابت کرنے میں ناکام رہا اس لیے ملزم کو بری کیا جاتا ہے۔



آپ کیلئے تجویز کردہ خبریں‎‎