بلوچستان حکومت نے آن لائن ٹیکس سسٹم پانچ سال بعد مکمل کر لیا

بلوچستان حکومت نے آن لائن ٹیکس سسٹم پانچ سال بعد مکمل کر لیا گیا ، وزیراعلیٰ بلوچستان جام کمال نے 8 ماہ کے منصوبے کی تاخیر تکمیل پر حیرت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ بلوچستان کو اصلاحات لانے اور گورننس سٹم کو تبدیل کرنے کی ضرورت ہے۔


محکمہ ایکسائز بلوچستان کے تحت 2013 میں شروع کیا گیا آن لائن ٹیکس سسٹم پانچ سال بعد مکمل کر لیا گیا سسٹم کا افتتاح وزیر اعلیٰ بلوچستان جام کمال نے کیا،حکام نے بتایا کہ سسٹم 11 کروڑ 70 لاکھ روپے کی لاگت سے مکمل کیا گیا جس کے تحت صارفین کو گاڑیوں،موٹر سائیکلوں،کیپیٹل گین،پراپرٹی سمیت چھ مختلف اقسام کے ٹیکس جمع کروانے میں آسانی ہو گی،ابتداء میں سسٹم صوبے کے چھ اضلاع میں نافذ کیا گیا ہے مستقبل میں مزید 21 اضلاع تک اسے توسیع دی جائے گی اس کے ساتھ ساتھ سرکاری نمبر پلیٹوں کی تیاری بھی کمپیوٹر رائزڈ کر دی گئی ہے،صارفین اے ٹی ایم کے ذریعے بھی ٹیکس ادا کریں گے،سسٹم لانے کا مقصد ٹیکس وصولی کے نظام کر بہتر بنانا ہے

وزیر اعلیٰ بلوچستان کے مشیر برائے ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن ملک نعیم بازئی نے بتایا کہ محکمے کو 2 ارب 8 کروڑ 80 لاکھ روپے ٹیکس جمع کرنے کا ہدف دیا گیا ہے تاہم ہدف سے بڑھ کر ٹیکس جمع کرنے کی کوشش کی جائے گی،انہوں نے مطالبہ کیا کہ محکمہ ایکسائز ٹیکسیشن کو اپنے دفاتر،اسٹاف کو مراعات ای ٹی اوز کو مجسٹریٹ کے اختیارات دئیے جائیں

وزیراعلیٰ بلوچستان جام کمال نے نے کہا کہ حیرت ہے منصوبہ دو ہزار تیرہ میں شروع کیا گیا لیکن مکمل تاخیر سے ہوا،معاشی بنچ کسی بھی محکمے اور ادارے کی ساکھ کو واضح کرتی ہے،معاشی صورتحال اچھی ہوگی تو صوبہ خود کفیل اور خود مختار ہو گا، معاشی صورتحال اگر درست نہیں تو حکومت کو پریشان ہونا چاہیے۔

جام کمال نے مزید کہا کہ بلوچستان میں بد انتظامی اور ناقص طرز حکومت تیس سالہ کارکردگی کا نتیجہ ہے،پورا صوبہ ساٹھ ارب روپے کی پی ایس ڈی پی پر چل رہا ہے،ایکسائز،ریونیو،معدنیات سمیت پانچ شعبوں سے صرف ریونیو مل رہا ہے،معاشی صورتحال یہی رہی تو ہم کچھ نہیں کر سکیں گے،چیزیں بدل گئیں لیکن بلوچستان میں قوانین اور سوچ نہیں بدلی،ہمیں بہتر انتظامی اسٹرکچر، اصلاحات لانے کی ضرورت یہ ٹاسک چیلنج ہے لیکن مشکل نہیں ۔



آپ کیلئے تجویز کردہ خبریں‎‎