لاہور،ناقص سیوریج نظام شہریوں کے لیے درد سر بن گیا

شہری علاقوں میں سیوریج سسٹم ایک بنیادی ضرورت ہےلیکن بلدیاتی نظام غیرفعال ہونے سے لاہور جیسے شہر میں بھی کئی آبادیاں گندے پانی میں ڈوب چکی ہیں۔


لاہور کے مختلف علاقوں میں گٹر ابل رہے ہیں اور گلیوں میں جمع ہے گندا پانی جمع ہے یہ مسئلہ کسی ایک علاقے کا نہیں بلکہ مناواں، برکی، شادی پورہ، کاہنہ اور یوحنا آباد کی آبادیوں کے مکین اس اذیت میں مبتلا ہیں لوگوں کا گھروں سے نکلنا مشکل ہوچکا ہے،کچھ لوگ تو اسی مسئلے سے تنگ آکر نقل مکانی بھی کرچکے ہیں۔

تلس پورہ بھی ایسے ہی علاقوں میں شامل ہےیہاں سیوریج کے ناقص نظام کا یہ حال ہے کہ سرکاری اسکول کے سامنے گندا پانی جمع ہے جب کہ یہاں بچوں کا پڑھنے کے لئے آنا کسی امتحان سے کم نہیں۔علاقے میں سیوریج کے پائپ ناکارہ ہوئےتو پانی کا نکاس اسکول کی جانب موڑ دیا گیا۔

مئیرلاہور مبشرجاوید سے سوال پوچھا جائےتو وہ فنڈز نہ ملنے کا رونا رو دیتے ہیں کہتے ہیں کہ اگرواسا کام نہیں کررہا تو اختیار ہمیں دے دیں ہم بلدیاتی فنڈ سے ڈسپوزل بنادیں گے۔

پی ٹی آئی نے حکومت سنبھالتے ہی نئے بلدیاتی نظام کا وعدہ کیا تھا جس میں تاخیر سے روز بروز مسائل میں اضافہ ہوتا جارہا ہے۔لوگوں کو گندے پانی کی اذیت سے چھٹکارا دلانے کے لئے کوئی بہت بڑا بجٹ بھی نہیں چاہئے بس حکمرانوں کی تھوڑی سی توجہ بہت سے دل جیت سکتی ہے۔



آپ کیلئے تجویز کردہ خبریں‎‎