میکسکو دیوار پر تعمیر کے لیے عارضی معاہدے کا اعلان

امریکی قانون سازوں نے ایک اور شٹ ڈاؤن سے بچاؤ کے لیے میکسیکو کی سرحد کےساتھ دیوار کی تعمیر کے لیے ایک ارب 40 کروڑ ڈالر کی فنڈنگ کے معاہدے کا اعلان کیا ہے۔


فرانسیسی خبررساں ادارے ’ اے ایف پی‘ کے مطابق یہ رقم امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی مطلوبہ رقم سے بہت کم ہے،انہوں نے دیوار کی فنڈنگ کے لیے 5 ارب 70 کروڑ ڈالر کا مطالبہ کیا تھا۔

اگر یہ معاہدہ منظور ہوجاتا ہے تو اس سے ایک نئے تنازع کا خدشہ ہے کیونکہ ڈونلڈ ٹرمپ نے دیوار کے لیے مطلوبہ فنڈنگ منظور نہ ہونے کی صورت میں 15 فروری سے حکومت کے بجٹ میں کٹوتی کی دھمکی دی تھی۔

سینیٹر رچرڈ شیلبے نے صحافیوں کو بتایا کہ ری پبلکن اور ڈیموکریٹک جماعتوں سے تعلق رکھنے والے قانون سازوں نے ایک معاہدے پر اتفاق کیا ہے۔

کانگریس کے سینئر ارکان نے اے ایف پی کو بتایا کہ معاہدے میں میکسیکو سے ملحقہ بارڈر پر دیوار بنانے کے لیے ایک ارب 37 کروڑ 50 لاکھ ڈالر کی فنڈنگ شامل ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ معاہدے میں اتفاق کی گئی رقم سے صرف 55 میل (89 کلومیٹر ) تک تعمیراتی اخراجات ہوں گے،جوکہ جنوبی ٹیکساس کے علاقے ریو گرینڈ تک ہی دیوار کی تعمیر میں مدد دے گی۔

امریکی قانون سازوں کی جانب سے اتفاق کیے گئے اس معاہدے پر تاحال وائٹ ہاؤس کی منظوری کا منتظر ہے۔

ٹیکساس کے شہر ایل پاسو میں خطاب کے دوران اس معاہدے سے متعلق سوال کے جواب پرامریکی صدر نے کہا کہ ان کے پاس اس حوالے سے تفصیلات موجود نہیں۔

انہوں نے کہا کہ ’ شاید کوئی اچھی خبر ہو لیکن کون جانتا ہے‘۔

ایل پاسو میں ہزاروں افراد سے خطاب کرتے ہوئے ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ’ ہمیں دیوار کی ضرورت ہے، اس کی تعمیر ہونی چاہیے اور ہم اسے جلد تعمیر کرنا چاہتے ہیں‘۔

خطاب میں شریک اکثر افراد نے ڈونلڈ ٹرمپ کی صدارتی مہم کی کیپ پہنی ہوئیں تھیں جس پر ’ میک امریکا گریٹ اگین ‘ تحریر تھا۔

میکسکو کی سرحد پر دیوار کی تعمیر کا تنازع 2020 میں ڈونلڈ ٹرمپ کے دوبارہ منتخب ہونے کی ابتدائی جنگ ہے اور ایل پاسو میں ان کی ریلی سے مستقبل میں پیش آنے والے حالات کی ایک جھلک دکھائی دی۔

انہوں نے کہا کہ ’دیواریں زندگیاں بچاتی ہیں، دیواریں ایک بڑی تعداد میں زندگیاں بچاتی ہیں‘۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے اس دیوار کو ایک تاریخی کراسنگ پوائنٹ کے طور پر منتخب کیا جس حوالے سے ان کا کہنا ہے کہ دیواروں کی وجہ سے میکسیکو کے مجرموں کی نقل و حرکت میں کامیاب کمی آئی ہے۔

امریکی صدر کے انتخاب کے دائیں اور بائیں جماعتوں کے درمیان جاری کشیدگی میں دیوار پر جاری بحث کی وجہ سے شدید اضافہ ہوا ہے۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ میکسکو کے شہر سیوداد خواریز سے باڑ لگا کر علیحدہ کرنے کی وجہ سے جرائم میں ڈرامائی کمی آئی۔

تاہم ایل پاسو کے میئر ڈی مارگو کا کہنا تھا کہ ’ یہ بات حقیقت میں درست نہیں،ہم پہلے بھی محفوظ تھے اور بعد میں بھی‘۔ انہوں نے کہا کہ ’ باڑ کی وجہ سے بعض مجرمانہ سرگرمیوں سے متعلق مدد ملی ہے لیکن ہمارے محفوظ ہونے کی بنیادی وجہ سے ہماری پولیس فورس اور پبلک سیفٹی ہے‘۔

دسمبر 2018 کے آخر میں ہونے والے شٹ ڈاؤن کو ملا کر گزشتہ برس امریکا میں ہونے والے شٹ ڈاؤن کی تعداد 3 ہوگئی تھی۔

امریکا کی تاریخ کے طویل ترین شٹ ڈاؤن کی وجہ سے 8 لاکھ وفاقی ملازمین اپنی تنخواہوں سے محروم ہوگئے تھے جنہیں اس ہفتے ان کی تنخواہیں دی جائیں گی لیکن حکومت میں کانٹریکٹ پر کام کرنے والوں کو ان کی نہ ملنے والی تنخواہ شاید نہیں دی جاسکے گی۔

خیال رہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ نے 25 جنوری کو عارضی طور پر حکومت بحال کرنے کے سمجھوتے پر اتفاق کیا تھا۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے 2016 کی انتخابی مہم میں دعویٰ کیا تھا کہ میکسیکو سرحد پر دیوار غیر قانونی تارکین وطن اور منشیات کی اسمگلنگ روکنے میں مدد دے گی لیکن ڈیموکریٹس نے اس دعوے کو مسترد کردیا تھا۔

بعد ازاں 27 جنوری کو ڈونلڈ ٹرمپ نے وال اسٹریٹ جرنل کو بتایا تھا کہ اس بات کے 50 فیصد سے بھی کم امکانات ہیں کہ حکومتی قانون ساز سرحد پر سیکیورٹی سے متعلق ان کے لیے قابل قبول معاہدے پر اتفاق کریں گے۔

رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ اس میں صرف وہ نقصانات شامل ہیں جو حکومت کا شٹ ڈاؤن جاری رہنے کی وجہ سے زیادہ اہم ہوتے جارہے تھے۔

خیال رہے کہ شٹ ڈاؤن کے نتیجے میں امریکی معیشت کو 11 ارب ڈالر کا خسارہ ہوا جو میکسیکو کی سرحد پر دیوار بنانے کے لیے مانگے گئے فنڈ سے دگنی رقم ہے۔

اس سے قبل سال 2018 کے آغاز میں 20 جنوری کو عارضی اخراجات کے بل پر اتفاق رائے نہ ہونے پر شٹ ڈاؤن کیا گیا تھا۔

اس شٹ ڈاؤن کے دوران پبلک سیکٹر کے ورکرز کو بغیر اجرت کے گھر بھیج دیا گیا تھا، یہاں تک کہ امریکی فوجیوں کو بھی حکومتی سرگرمیاں بحال ہونے تک رقوم کی ادائیگی نہیں کی گئی تھی۔

شٹ ڈاؤن روکنے کے لیے امریکی ایوان نمائندگان میں عارضی اخراجات کا بل منظور کیا گیا تھا، تاہم سینیٹ میں ہونے والی رائے شماری میں ٹرمپ انتظامیہ کو اس حوالے سے شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا۔

بعد ازاں 9 فروری 2018 کو بھی امریکا میں سال کا دوسرا شٹ ڈاؤن ہوا تھا، تاہم امریکی صدر نے قانونی بل پر دستخط کرکے اس شٹ ڈاؤن کو روک دیا تھا۔

یاد رہے کہ اس سے قبل اکتوبر 2013 میں امریکا میں 16 روز تک شٹ ڈاؤن رہا تھا، اس دوران تقریباً 8 لاکھ وفاقی ملازمین عارضی رخصت پر بھیج دیے گئے تھے جبکہ بقیہ 13 لاکھ کو کام پر رپورٹ کرنے کا کہا گیا تھا۔

یہ شٹ ڈاؤن بھی حکومتی اخراجات کے معاملے پر سابق امریکی صدر صدر باراک اوباما اور کانگریس میں ان کے ریپبلکن مخالفین کے مابین عدم اتفاق رائے کے باعث ہوا تھا۔

اس سے قبل 1995 اور 1996 میں بھی امریکا میں 2 شٹ ڈاؤن ہوئے تھے، یہ شٹ ڈاؤن وفاقی بجٹ میں طبی سہولیات، تعلیم، ماحول، عوامی صحت سے متعلق اخراجات پر ڈیموکریٹک صدر بل کلنٹن اور حریف ریپبلکن کے درمیان تنازع کے نتیجے میں ہوئے تھے۔

امریکی تاریخ میں 1990 میں بھی شٹ ڈاؤن دیکھا گیا جبکہ اس سے پہلے 1981، 1984، 1986 میں بھی کئی لاکھ وفاقی ملازمین کو عارضی رخصت پر بھیجادیا گیا تھا۔

یاد رہے کہ امریکا میں یکم مئی 1980 کو تاریخ کا پہلا شٹ ڈاؤن ہوا تھا جس کی وجہ بھی اخراجات کا تنازع ہی تھی۔



آپ کیلئے تجویز کردہ خبریں‎‎