بحریہ ٹاؤن عملدرآمد کیس: ‘عدالتی کارروائی نیب کے کام پر اثر انداز نہیں ہوگی‘

اسلام آباد: سپریم کورٹ آف پاکستان نے ریمارکس دیے ہیں کہ بحریہ ٹاؤن سے متعلق عدالتی کارروائی قومی احتساب بیورو (نیب) کے کام پر اثر انداز نہیں ہوگی۔


جسٹس شیخ عظمت سعید کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے بحریہ ٹاؤن عملدرآمد کیس کی سماعت کی۔

اس موقع پر عدالت نے مارکیٹنگ کمپنی پرزم، کوس موس، ٹرائی اسٹارز سے متعلق بحریہ ٹاؤن کے پلاٹوں کی بکنگ کی تفصیلات طلب کرلیں۔

عدالت نے ریمارکس دیے کہ بحریہ ٹاؤن سے متعلق عدالتی کارروائی نیب کے کام پر اثر انداز نہیں ہوگی، نیب اپنا کام جاری رکھے۔

دوران سماعت شیخ عظمت سعید نے ریمارکس دیے کہ ہم بحریہ ٹاؤن کو ملزمان کے ڈیلرز کو ملزمان کے طور پر نہیں بلا رہے بلکہ انہیں عدالتی معاونت کے لیے بلایا جارہا ہے۔

انہوں نے ریمارکس دیے کہ ڈیلرز کے وکلا سے مکالمہ کیا کہ اگر ڈیلرز مجرم بن کر آنا چاہتے ہیں تو ہم ان کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کر دیتے ہیں، جو آپ کا مسئلہ نہیں ہے اسے اپنا مسئلہ نہ بنائیں۔

جسٹس عظمت سعید کا کہنا تھا کہ اگر آپ سے عدالت کی معاونت نہیں ہو سکتی تو ہم کسی اور کو کہہ دیتے ہیں، آ بیل مجھے مار والا حال نہ کریں۔

اس دوران بحریہ ٹاؤن کے وکیل نے عدالت سے استدعا کی کہ سپریم کورٹ عملدرآمد کیس کی سماعت 14 فروری تک ملتوی کرے، جس پر جسٹس شیخ عظمت سعید نے کہا کہ 14 تاریخ کو ویلنٹائن ڈے تو نہیں؟

انہوں نے بحریہ ٹاؤن کے وکیل سے مکالمہ کیا کہ اگر آپ کے کلائنٹس نے ہمیں تنگ کیا تو ہم پراسیکیوٹر سے شکایت نہیں کریں گے۔

بعد ازاں عدالت نے مذکورہ کیس کی سماعت جمعرات 14 فروری تک ملتوی کردی۔

4 مئی 2018 کو سپریم کورٹ نے بحریہ ٹاؤن کو سرکاری زمین کی الاٹمنٹ اور تبادلے کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے بحریہ ٹاؤن کراچی کو رہائشی، کمرشل پلاٹوں اور عمارتوں کی فروخت سے روک دیا تھا۔

جسٹس اعجاز افضل کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے 1-2 کی اکثریت سے بحریہ ٹاؤن اراضی سے متعلق کیسز پر فیصلہ سناتے ہوئے اس معاملے کو قومی احتساب بیورو (نیب) کو بھیجنے اور 3 ماہ میں تحقیقات مکمل کرکے ذمہ داران کے خلاف ریفرنسز دائر کرنے کا حکم دیا تھا۔

عدالتی فیصلے میں کہا گیا تھا کہ بحریہ ٹاؤن کو اراضی کا تبادلہ خلاف قانون تھا، لہٰذا حکومت کی اراضی حکومت کو واپس کی جائے جبکہ بحریہ ٹاؤن کی اراضی بحریہ ٹاؤن کو واپس دی جائے۔

عدالت کی جانب سے ملیر ڈیولپمنٹ اتھارٹی کی زمین کی غیر قانونی الاٹمنٹ کی تحقیقات کا بھی حکم دیا گیا تھا جبکہ چیف جسٹس میاں ثاقب نثار سے درخواست کی گئی کہ وہ اس فیصلے پر عمل درآمد کے لیے خصوصی بینچ تشکیل دیں۔

بعد ازاں عدالت کی جانب سے بحریہ ٹاؤن کراچی کیس میں دیے گئے فیصلے پر عمدرآمد کےلیے ایک خصوصی بینچ تشکیل دیا گیا تھا۔

اس کیس میں بحریہ ٹاؤن کی جانب سے اپنی زمین کو قانونی دائرے میں لانے کے لیے پہلے 250 ارب روپے کی پیش کش کی تھی جسے مسترد کردیا تھا، جس کے بعد 16 ہزار ایکڑ زمین کے عوض 358 ارب روپے دینے کی پیشکش کی گئی تھی۔



آپ کیلئے تجویز کردہ خبریں‎‎