پبلک اکاؤنٹس کمیٹی چیئرمین تنازع: پیپلز پارٹی کا شہباز شریف کی حمایت کا اعلان

پاکستان پیپلز پارٹی قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف اور پبلک اکاؤنٹس کمیٹی (پی اے سی) کے چیئرمین شہباز شریف کی حمایت میں کھل کر سامنے آ گئی ہے۔


پیپلز پارٹی کا کہنا ہے کہ اگر شہباز شریف کو پی اے سی کی چیئرمین شپ سے ہٹانے کی کوشش کی گئی تو وہ حزب مخالف کی دیگر جماعتوں کے ساتھ مل کر پارلیمان کی کارروائی چلنے نہیں دے گی۔

پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما خورشید شاہ نے منگل کو میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ حکومت پی اے سی کے چیئرمین کے خلاف تحریک عدم اعتماد لا کر تو دکھائے۔

انھوں نے کہا کہ حزب مخالف کی جماعتیں شاہ محمود قریشی، پرویز خٹک اور سپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر کی وجہ سے ایوان کی کارروائی جمہوری انداز میں چلانے میں تعاون کرتی رہی ہیں۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ حکومت خود ایوان کو جمہوری طریقے سے نہیں چلانا چاہتی ہے۔

نامہ نگار شہزاد ملک کے مطابق سید خورشید شاہ جو کہ پاکستان مسلم لیگ نواز کے دور حکومت میں پی اے سی کے چیئرمین رہے، ان کا کہنا تھا کہ پاکستان تحریک انصاف جب اپوزیشن میں تھی تو اس وقت اس جماعت کے ارکان اسمبلی کی میزوں پر چڑھ کر احتجاج کیا کرتے تھے۔

یہ بھی پڑھیے

انھوں نے الزام عائد کیا کہ وزیر اعظم اس ایوان میں بھی اسی طرح کی سیاست کرنا چاہتے ہیں جس طرح وہ دھرنے کے دوران کنٹینرز پر چڑھ کر کرتے تھے۔

خیال رہے کہ پاکستان تحریک انصاف کی حکومت نے اقتدار میں آنے کے چار ماہ کے بعد اس وقت شہباز شریف کو پی اے سی کا چیئرمین بنانے پر رضامندی ظاہر کی تھی جب حزب مخالف کی جماعتوں نے قائمہ کمیٹیوں کا رکن بننے سے انکار کردیا تھا اور ایوان میں قانون سازی مشکل ہو گئی تھی۔

تجزیہ کاروں کے مطابق وزیر اعظم عمران خان کے قومی اسمبلی کے گزشتہ اجلاس میں خطاب کے دوران شہباز شریف کی جانب سے انھیں ’سلیکٹیڈ وزیر اعظم‘ کہہ کر پکارنا اور حزب مخالف جماعتوں کے ارکان کی جانب سے ان کے خطاب کے دوران شدید نعرے بازی کے باعث وہ اپوزیشن کے رویے سے کافی نالاں ہیں جس کے بعد حکمراں اتحاد کی طرف سے شہباز شریف کو پی اے سی کی چیئرمین شپ سے ہٹانے کی خبریں آ رہی ہیں تاہم تحریری طور پر ابھی کوئی چیز سامنے نہیں آئی۔

حکمران جماعت پنجاب کے سینئیر وزیر علیم خان کی نیب کے ایک مقدمے میں گرفتاری کے بعد مستعفی ہونے کو بنیاد بنا کر شہباز شریف سے مستعفی ہونے کا مطالبہ کر رہی ہے۔

قومی اسمبلی سیکریٹریٹ کے ایک اہلکار کے مطابق پی اے سی کے چیئرمین کو ان کے عہدے سے ہٹانے سے متعلق قومی اسمبلی کے قوائد خاموش ہیں۔

ان کے مطابق صرف اسی صورت میں پی اے سی کے چیئرمین کو ان کے عہدے سے ہٹایا جاسکتا ہے اگر وہ خود مستعفی ہوں۔

دوسری جانب وفاقی وزیر ریلوے شیخ رشید یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ انھیں وزیر اعظم نے پی اے سی کا رکن بنانے کی منظوری دی ہے تاہم اس ضمن میں قومی اسمبلی کے سپیکر کے پاس ایسی کوئی درخواست نہیں آئی۔

حکمراں جماعت کے ذرائع کا کہنا ہے کہ پاکستان تحریک انصاف کے سنجیدہ ارکان اسمبلی شیخ رشید کو پی اے سی کا رکن بنانے کے حق میں نہیں ہیں اور اُنھوں نے اس بارے میں اعلیٰ قیادت کو اپنے تحفظات کے بارے میں بھی آگاہ کیا ہے۔



آپ کیلئے تجویز کردہ خبریں‎‎