ضیاء آمریت کا قانون شہادت اور یومِ خواتین

پاکستان میں منگل 12 فروری کو قومی سطح پر خواتین کا دن منایا گیا۔ لوک ورثہ اسلام آباد میں دن بھر نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف فوک اینڈ ٹریڈیشنل ہیریٹیج کے زیر انتظام مختلف تقریبات کا سلسلہ جاری رہا۔


تاریخ کے اوراق پلٹنے سے معلوم ہوتا ہے کہ 12 فروری 1983 کو خواتین دفعہ 144 کی پرواہ کیے بغیر جنرل ضیاءالحق کی حکومت میدان میں اترآئیں اور انھوں نے لاہور ہائی کورٹ کی طرف مارچ کیا۔

ویمن ایکشن فورم کے کارکنوں کے اس احتجاج کا مقصد جنرل ضیاءالحق کے قانونِ شہادت کے مسودے کو چیلینج کرنا تھا۔

اس حوالے سے نیشنل کمیشن آن سٹیٹس آف ویمن کی چیئر پرسن خاور ممتاز کہتی ہیں کہ 12 فروری ایک تاریخی دن تھا جب مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والی خواتین ایک بڑے گروہ کی شکل میں سامنے آئیں اور امتیازی سلوک کے خلاف آواز بلند کی۔

خاور ممتاز کا مزید کہنا تھا کہ اُس وقت تمام طرح کی سیاسی سرگرمیوں پر پابندی کے دوران امتیازی قوانین کے خلاف خواتین کی شدید مزاحمت، جمہوریت اور طاقت کی علامت بن گئی اور یہ جدوجہد اب بھی جاری ہے۔ یہ جدوجہد صرف خواتین کے ایک مخصوص گروہ کے لیے نہیں تھی بلکہ معاشرے کے مظلوم طبقے سے تعلق رکھنے والی خواتین کے لیے بھی تھی۔

خواتین کا پبلک مقامات پرآنا ضروری کیوں؟

پاکستان میں خواتن کا مردوں کی طرح پبلک مقامات پر بیٹھنا معیوب بات سمجھی جاتی ہے۔ ’گرلز ایٹ ڈھاباز‘ کی کارکن عطیہ عباس کہتی ہیں کہ عورتوں کا پبلک مقامات پر آنا اس لیے ضروری ہے کیونکہ عورت کے باہر نکلنے کے ساتھ ایک مقصد جوڑ دیا جاتا ہے جیسے کام، شاپنگ، سکول یا دوستوں کے ساتھ گھومنا پھرنا۔ لیکن اگر وہ چائے کی پیالی پینے اور دوستوں کے ساتھ انجوائے کرنے کے لیے ڈھابے کا رخ کرے تو اسے بری نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔

عطیہ عباس کا مزید کہنا تھا کہ کیلی عورت کو ایک مسئلے کی طرح دیکھا جاتا ہے جس کا فوری حل نکالنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ آخر وہ باہر نکلی ہی کیوں؟ اگر نکلے تو اسے تو فوراً ہی رکشے میں بیٹھ جانا چاہیے۔ کیا اس کا لباس موزوں ہے؟ اگر موزوں ہے تو اچھا ہے، اسے لوگوں کو بالکل متوجہ نہیں کرنا چاہیے۔

اس بارے میں ماہر سماجیات ندا کِرمانی کہتی ہیں `خواتین کو گھر کی چاردیواری میں رکھنا پدر شاہی کی بنیاد ہے۔ میرے خیال میں جب خواتین گھر سے باہر نکلتی ہیں تو وہ پدر شاہی کے نظام کی بنیاد کو بھی چیلینج کر رہی ہوتی ہے۔`

ندا کا مزید کہنا ہے کہ ضیا کے دور میں شاید یہ شعوری مطالبہ نہیں تھا مگر پاکستان اور جنوبی ایشیا میں تحریک نسواں کے بعد یہ ایک سیاسی مسئلہ بن گیا ہے۔

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے عطیہ عباس نے کہا `ہم کہہ سکتے ہیں کہ عورتوں کی طرف سے موصول ہونے والی تصاویر جن میں وہ اکیلی سفر کر رہی ہوتی ہیں، ڈھابوں پر چائے کی پیالی سے لطف اندوز ہو رہی ہوتی ہیں یا سائیکل چلا رہیں ہوتی ہیں۔۔۔ ایسا ہم نے سوشل میڈیا پر پہلے کبھی نہیں دیکھا۔ `

سرکاری خبررساں ایجنسی اے پی پی سے بات کرتے ہوئے سماجی کارکن ڈاکٹر فوزیہ سعید نے کہا کہ پچھلے سال خواتین کے حق میں کوئی بھی ایسی تبدیلی نہیں لائی گئی جو آج کے روز منائی جا سکے۔ پالیسیاں اور قوانین ضروری ہیں مگر مطلوبہ نتائج حاصل کرنے کے لئے ان پر عمل درآمد کرنا لازمی ہے۔



آپ کیلئے تجویز کردہ خبریں‎‎