ٹائیفائیڈ ’’سپر بگ‘‘ سے بچنے کی احتیاطی تدابیر

پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن نے کراچی سمیت سندھ کے مختلف علاقوں میں منظر عام پر آنے والے ٹائیفائیڈ ’’سپر بگ‘‘ کے کیسز پر تشویش کا اظہار کردیا، ساتھ ہی عوام کو اس سے بچنے کیلئے احتیاطی تدابیر استعمال کرنے کا مشورہ بھی دیا ہے۔


ایکس ڈی آر ٹائیفائیڈ ’’سپر بگ‘‘ بخار کی وہ قسم ہے جس پر کسی بھی طرح کی اینٹی بائیوٹک کا اثر نہیں ہوتا۔

پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن کی جانب سے جاری اعلامیے میں بتایا گیا ہے کہ ایکس ڈی آر ٹائیفائیڈ کے 8 ہزار سے زائد کیسز رپورٹ ہوچکے ہیں جن میں اکثر مریضوں کا تعلق کراچی سے ہے، اس کے بعد حیدرآباد، سانگھڑ اور دیگر اضلاع کے مریض شامل ہیں۔

پی ایم اے کا کہنا ہے کہ یہ پانی میں پیدا ہونیوالا ایک انتہائی خطرناک انفیکشن ہے جو آلودہ پانی اور غذاؤں سے پھیلتا ہے، اس کی علامات تیز نوعیت کا بخار، کمزوری، پیٹ میں درد، متلی، الٹی، سر درد، کھانسی اور بھوک کی کمی شامل ہیں۔

ڈاکٹرز کے مطابق مندرجہ ذیل احتیاطی تدابیر اختیار کرکے ’’سپر بگ‘‘ ٹائیفائیڈ بخار سے بچا جاسکتا ہے۔

۔۱۔اپنے ہاتھوں کو بار بار دھوئیں، خصوصاً کھانے سے قبل اور بیت الخلاء کے استعمال کے بعد۔

۔۲۔پانی کو ابال کر استعمال کریں، فلٹر کریں یا کیمیائی مواد سے صاف کریں۔

۔۳۔ایسے شخص کے ہاتھ سے بنا کھانا نہ کھائیں جو بیمار ہو یا بیمار رہ چکا ہو۔

۔۴۔کھلے مقامات پر فروخت ہونیوالا کھانا نہ کھائیں۔

۔۵۔پھل اور سبزیاں صاف پانی سے دھوئے بغیر اور چھلکا اتارے بغیر کھانے سے گریز کریں۔

۔۶۔اگر ممکن ہو تو سلاد اور پتلی کٹی ہوئی ہوئی سبزیاں کھانے گریز کریں، جس میں جراثیم کے پھیلنے کی زیادہ گنجائش ہوتی ہے۔

۔۷۔سبزیوں اور پھلوں سے بنی چٹنیوں سے گریز کیا جائے۔

۔۸۔ایسا کچا گوشت اور سمندری غذا جس میں جراثیم کے ہونے کا خدشہ ہو استعمال نہ کریں۔

۔۹۔ہومیوپیتھک ڈاکٹرز کی جانب سے تجویز کردہ اینٹی بائیوٹک ادویات سے لینے سے گریز کریں۔

سپر بگ ٹائیفائیڈ نے گزشتہ سال فروری میں کئی جانیں لیں، جس کے بعد جولائی میں امریکا نے اپنے شہریوں کو دوستوں اور رشتہ داروں سے ملاقات کیلئے پاکستان جانے میں احتیاط کا مشورہ دیا تھا۔ یونائیٹڈ اسٹیٹ سینٹر فار ڈیزیز کنٹرول اینڈ پریوینشن نے لیول 2 کا الرٹ جاری کیا تھا، مسافروں کو بہتر احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی ہدایت کی گئی تھی۔

سندھ حکومت کے محکمہ صحت نے سپر بگ ٹائیفائیڈ بخار سے بچاؤ کیلئے مارچ میں ویکسی نیشن مہم چلانے کا اعلان کیا ہے۔ ٹائیفائیڈ بخار کی ویکسی نیشن کے ساتھ ای پی آئی (ایکسپینڈڈ پروگرام آن امیونائزیشن) کی مہم بھی چلائی جائے گی، جس میں 15 ماہ کے تک کے تمام بچوں کو دس بیماریوں سے بچاؤ کی ادویات پلائی جائیں گی۔

محکمہ صحت کے مطابق 6 ماہ سے 5 سال کے بچوں کو پہلے مرحلے میں بچاؤ کے قطرے پلائے جائیں گے جبکہ دوسرے مرحلے میں 5 سے 15 سال کے بچوں کو ٹائیفائیڈ ’’سپربگ‘‘ سے بچاؤ کی ویکسین پلائی جائے گی۔

محکمہ صحت کا کہنا ہے کہ اس مہم میں ایک کروڑ بچوں کو ویکسین پلانے کیلئے 10 ہزار رضا کاروں کی خدمات لی جائیں گی۔



آپ کیلئے تجویز کردہ خبریں‎‎