سیاسی محاذ پر بلاول بھٹو کی جارحانہ باؤلنگ

لاہور: (تجزیہ:سلمان غنی) پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے سیاسی محاذ پر جارحانہ باؤلنگ کے ذریعہ توجہ اپنی جانب مبذول کرائی ہے۔ ایک جانب انہوں نے سیاسی مخالفین کے خلاف نیب کے کردار کو ٹارگٹ کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ کالا قانون ہے جسے سیاسی ایجنڈے کیلئے استعمال کیا جا رہا ہے دوسری جانب انہوں نے کالعدم تنظیموں کے خلاف نیشنل ایکشن پلان کے تحت کارروائی نہ ہونے کے عمل کو جواز بناتے ہوئے حکومت پر الزام لگایا ہے کہ یہ تنظیمیں حکومت کی اتحادی ہیں۔ وزیراعظم کالعدم تنظیموں کے خلاف نہیں اپوزیشن کے خلاف ایکشن لیتے ہیں۔ جانتے ہیں کہ آپ نے ان کی مدد سے الیکشن جیتا تھا، ایک وفاقی وزیر کہتا ہے کہ ہمارے دور میں کالعدم تنظیموں کے خلاف ایکشن نہیں ہوگا۔ منتخب وزیراعظم کو پھانسی اور کالعدم تنظیموں کی آزادی، اپوزیشن کو مطمئن کرنا پڑے گا کہ کالعدم تنظیموں کے خلاف ایکشن کیوں نہیں ہو رہا۔


بلاول کی پریس کانفرنس ان کا جارحانہ طرز عمل اور ان کی جانب سے الزامات کی روش ظاہر کر رہی ہے کہ کچھ تو ہے جس کی پردہ داری ہے۔ ایک تو نیب کی جانب سے کرپشن، لوٹ مار، منی لانڈرنگ کے حوالے سے کارروائیاں اور مقدمات ہیں جس نے پیپلز پارٹی کی قیادت خصوصاً زرداری، ان کے خاندان، ان کے رفقاء کار کو پریشان کر رکھا ہے اور پیپلز پارٹی کی جانب سے پسِ پردہ رابطوں کا عمل بھی کارگر نہیں ہوا کیونکہ یہ زرداری تھے جنہوں نے چیئرمین سینیٹ کیلئے اپنے بالواسطہ کردار کے ساتھ ساتھ نئے حالات میں قائد ایوان، صدارتی انتخابات میں اپنے کردار کے ذریعے اسٹیبلشمنٹ کو خوش کرنے کی کوشش کی تھی لیکن اسٹیبلشمنٹ ان سے کسی معاملہ کے موڈ میں نظر نہیں آ رہی اور اب خصوصاً سندھ اور پیپلز پارٹی نیب کا بڑا ہدف ہے اور بلاول بھٹو کی پریس کانفرنس کو اس تناظر میں لیا جا رہا ہے اور تاثر یہی ابھر رہا ہے کہ بلاول اور پیپلز پارٹی کی قیادت سندھ اسمبلی کے سپیکر آغا سراج درانی کی گرفتاری کو خود اپنے لیے پیغام سمجھ رہی ہے۔

یہی وجہ ہے کہ سابق صدر آصف علی زرداری نے نئے حالات اور اپنے خاندان کیلئے خطرات کے باعث ہی خود پیچھے ہو کر بلاول کو آگے کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور بلاول نے لاہور کی کوٹ لکھپت جیل میں نواز شریف سے ملاقات کر کے ایک طرف سیاسی وضع داری کا ثبوت دیا تو دوسری جانب حکومت کو باور کرایا کہ آنے والے وقت میں حکومت مخالف گرینڈ الائنس خارج از امکان نہیں۔ بلاول کے تحفظات اور کالعدم تنظیموں کے خلاف کارروائی کے عمل کو چیلنج کرنا حکومت اور اسٹیبلشمنٹ کیلئے مسائل پیدا کرے گا اس صورت میں یقیناَ ان سے اسٹیبلشمنٹ کے روابط بحال ہو سکتے ہیں اور انہیں خصوصاً کرپشن کے حوالے سے مقدمات میں کوئی نہ کوئی ریلیف مل سکتا ہے۔

دوسری جانب خود مسلم لیگ ن بھی ماضی میں آنیوالی ڈان لیکس کی بڑی وجہ بھی کالعدم تنظیموں کے خلاف کارروائی کو قرار دیتی ہے جس کے باعث ان کے اور سکیورٹی اداروں کے درمیان غلط فہمیوں نے جنم لیا اور اب وہ بلاول کی جانب سے اختیار کئے جانے والے مؤقف کی خاموش تائید کرتے نظر آ رہے ہیں لہٰذا اب دیکھنا یہ ہوگا کہ حکومت بلاول کی جانب سے کالعدم تنظیموں اور ان کی معاونت کے الزام سے خود کس طرح سرخرو ہوتی ہے اور ان کے خلاف کارروائی کا عمل کتنا نتیجہ خیز بنتا ہے۔ بلاول اور خود مسلم لیگ ن کی قیادت متعدد بار یہ تسلیم کر چکی ہے کہ ہم نے اپنے ادوار میں نیب قوانین میں ترمیم نہ کر کے بہت بڑی غلطی کی لیکن نیب کی کارروائیوں اور کردار کا گہرائی سے جائزہ لیا جائے تو کہا جا سکتا ہے کہ ماضی کے دونوں ادوار میں اس وقت کی حکومتوں نے نیب کو اپنے اپنے سیاسی مقاصد کیلئے استعمال کیا اور آج وہ خود اس کی پکڑ میں ہیں تو انہوں چیخنا چلانا شروع کر رکھا ہے۔

بلاول اور شریف قیادت نیب کو کالا قانون قرار دیتی رہی ہے تو عوام یہ پوچھنے میں حق بجانب ہیں کہ پھر دونوں یہ بتائیں کہ کڑے احتساب کیلئے پر عزم چیئرمین نیب جسٹس (ر) جاوید اقبال کے نام پر اتفاق رائے انہوں نے کس کے کہنے پر، کیونکر کیا تھا ؟ اور اب وہ خود ان کی سربراہی میں چلنے والے ادارے کو ٹارگٹ کیوں کر رہے ہیں اور وہ قوم کو یہ بھی بتائیں کہ اگر نیب کے پیچھے کوئی اور کام کر رہا ہے تو وہ حکومت اس لئے نہیں ہو سکتی کہ اب احتساب کا یہ سلسلہ ان تک بھی دراز ہوتا نظر آ رہا ہے اور ان کے ہاتھ پاؤں بھی پھولے محسوس ہو رہے ہیں بلاول کی جانب سے کی جانے والی پریس کانفرنس میں کتنا سچ اور کتنا جھوٹ ہے اس حوالے سے دو آراء ضرور ہیں مگر ان کی اس پریس کانفرنس کی ٹائمنگ اور ان کی جانب سے لگائے جانے والے الزامات اور حکومتی پالیسیوں پر تحفظات کے عمل کے اثرات ضرور آنے والے دنوں میں نظر آئیں گے اور حکومت کو دفاعی محاذ پر آنا پڑے گا۔ خصوصاً تین وزراء کے کالعدم تنظیموں سے رابطوں اور ان کے اس حوالے سے بیانات پر یقینا حکومت کو وضاحت کرنا پڑے گی۔



آپ کیلئے تجویز کردہ خبریں‎‎

مقبول ٹیگ‎‎‎