بھارت، پاکستان کو بلیک لسٹ میں شامل کروانے کے درپے

اسلام آباد: وزیر خزانہ اسد عمر کا کہنا ہے کہ اس وقت ملک کو بڑھتی ہوئی مہنگائی اور بلند مالی خسارہ کی صورت میں 2 بڑے چیلنجز کا سامنا ہے۔


قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی کے سامنے پیش ہو کر وزیر خزانہ نے انکشاف کیا کہ فنانشل ٹاسک فورس (ایف اے ٹی ایف) کی ہدایات پر عمل کرنے کے لیے پاکستانی کوششوں پر بھارت نے علیحدہ سے کارکردگی رپورٹ جمع کروائی ہے حالانکہ بھارت ٰخود اس تنظیم کا جوائنٹ وائس پریزیڈنٹ ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کے لیے ایف اے ٹی ایف کی ’گرے لسٹ‘ سے نکلنے کے لیے کالعدم تنظیموں سے تعلق رکھنے والے انتہائی خطرناک عناصر کی گرفتاری، مقدمہ اور سزا دینا ایک بڑا چیلنج ہے جو دہشت گردی کی مالی معانت اور منی لانڈرنگ کی وجہ سے مالی نظام کے لیے خطرہ سمجھے جاتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کے لیے عملدرآمد ظاہر کرنے کے حوالے سے یہ اقدامات ’انتہائی اہم چیلینج اور اولین ترجیح کی حیثیت رکھتے ہے‘۔

اسد عمر کا کہنا تھا کہ پاکستان نے انتہائی خطرناک عناصر کے سلسلے میں 8 کالعدم تنظیموں کو انہتائی خطرناک کے درجے میں شامل کر کے جنوری کے لیے ایف اے ٹی ایف کے اہداف کو پورا کیا جسے تنظیم نے قبول کرلیا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ پیرس میں ہونے والے بین الاقوامی تعاون تنظیم کے نظرِ ثانی اجلاس میں پاکستان کو دوست ممالک کی جانب سے معلوم ہوا کہ بھارت نے پاکستان کو بیلک لسٹ قرار دلوانے کے لیے بھرپور مہم کا آغاز کردیا ہے۔

وزیر خزانہ کا مزید کہنا تھا کہ بھارتی وزرا نے کھلے عام بیانات دیے کہ وہ پاکستان کو تہنا کرنے کے لیے ہر ممکن کوشش کریں گے اسلیے پاکستان نے مذکورہ تنظیم سے بھارتی نائب صدر کی برطرفی کا مطالبہ کیا ہے۔

وزیر خزانہ نے کہا فنانس کمیٹی کو فعال کردار ادا کرتے ہوئے حکومت کے لیے دستاویز تیار کرنی چاہیے جس میں ترقی کے خطوط، وسائل کی منتقلی اور غربت دور کرنے کے لیے سرمایہ کاری کا فروغ اور نوکریوں میں اضافے کا فریم ورک موجود ہو جو آئندہ مالی بجٹ میں حکومت کی مدد کرسکے۔

ان کا کہنا تھا کہ ملک کو سابقہ حکومت کی سیاسی مقاصد کی وجہ سے سنگین مالی چیلنجز کا سامنا کرنا پڑا چناچہ اسے صحیح کرنے کے لیے بجلی اور گیس کی قیمتوں میں اضافہ کرنا پڑا جس کی وجہ سے مہنگائی میں اضافہ ہوا۔

ان کا کہنا تھا کہ ’مہنگائی میں اضافہ تشویشناک ہے اور ہماری ترجیح ہے کہ عوام کو اس سے محفوظ رکھا جائے‘۔

اس موقع پر کمیٹی اراکین نے کہا کہ حکومت اصلاحات اور استحکام کے پروگرام کی لاگت کے ساتھ ساتھ آئندہ ہونے والے آئی ایم ایف کے پروگرام کی ضروریات کو مدِ نظر رکھتے ہوئے ایک فریم ورک فراہم کرے تا کہ کمیٹی اس پر اپنی ماہرانہ تجاویز پیش کرسکے۔

وزیر خزانہ نے بتایا کہ سود کی ادائیگیاں بجٹ تخمینے سے بڑھ کر 4 کھرب تک پہنچ گئی جبکہ حکومتی ٓاخرجات میں محض 3.3 فیصد اضافہ ہوا اس کے ساتھ انہوں نے آئندہ غیر ملکی قرضوں کے معاہدے ہونے کے بعد اس کی تفصیلات کمیٹی کے سامنے پیش کرنے پر بھی رضامندی کا اظہار کیا۔



آپ کیلئے تجویز کردہ خبریں‎‎

مقبول ٹیگ‎‎‎