کرتار پور مذاکرات کے لیے پاکستانی وفد بھارت روانہ

کرتار پور مذاکرات کے لیے پاکستانی وفد واہگہ بارڈر سے بھارت کے سرحدی علاقے اٹاری کے لیے روانہ ہوگئے۔


خیال رہے کہ جنوری کے مہینے میں پاکستان نے کرتارپور کوریڈور معاہدے کا مسودہ بھارت کو پیش کرتے ہوئے ان کے وفد کو دستاویزات پر مذاکرات کرنے کے لیے مدعو کیا تھا جو کرتارپور صاحب میں قائم گردوارے میں بھارتی سکھ زائرین کی بغیر ویزا رسائی کے کام کی نگرانی کریں گے۔

مذاکرات کے مقام پر گفت و شنید کے بعد فروری کے مہینے میں دونوں ممالک بھارت اور پھر پاکستان میں مذاکرات پر آمادہ ہوئے تھے۔

وفد میں شامل دفتر خارجہ کے ترجمان ڈاکٹر محمد فیصل نے واہگہ بارڈر پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ہماری یہ ملاقات کرتار پور سرحد کو کھولنے کے لیے ہے اور ہماری سوچ ہے کہ ایک شجر ایسا لگایا جائے کہ ہمسائے کے گھر پر بھی سایہ جائے۔

انہوں نے بتایا کہ ’ہم مذاکرات میں مثبت پیغام لے کر جارہے ہیں اور امید کرتے ہیں کہ بھارت بھی قدم آگے بڑھائے گا‘۔

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان اقلیتوں کے حقوق کو بہت اہمیت دیتا ہے اور بابا گرونانک دیو جی کا مزار سکھ برادری کے لیے نہایت اہمیت کا حامل ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاک بھارت کشیدگی میں کمی خطے کے امن کے لئے ضروری ہے اور امید ظاہر کی کہ ’کرتارپورراہداری سے سکھ برادری کوسہولت اوردونوں ملکوں کےدرمیان امن بھی ہوگا‘۔

منصوبے کے آغاز اور تکمیل کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ کرتار پور منصوبے کا سنگ بنیاد 20نومبر 2018 کو رکھا گیا تھا اور اس کی تکمیل نومبر 2019 میں ہو جائے گی۔

خیال رہے کہ گزشتہ روز دفتر خارجہ کے ترجمان ڈاکٹر محمد فیصل نے ٹویٹ کرتے ہوئے بھارتی حکومت کی جانب سے کرتار پور معاہدے کی کوریج کے لیے پاکستانی صحافیوں کو ویزا نہ دینے پر برہمی کا اظہار کیا تھا۔

انہوں نے نشاندہی کی کہ ’30 سے زائد بھارتی صحافیوں نے گزشتہ سال پاکستان میں کرتارپور کا سنگ بنیاد رکھنے کی تقریب میں شرکت کی تھی‘۔



آپ کیلئے تجویز کردہ خبریں‎‎

مقبول ٹیگ‎‎‎