گلالئی اسماعیل کا نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ سے نکالنے کا حکم

اسلام آباد: اسلام آباد ہائی کورٹ نے انسانی حقوق کی سرگرم کارکن گلالئی اسماعیل کا نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ سے نکالنے کا حکم دیا ہے۔


حکومت کی جانب سے ایگزٹ کنٹرول لسٹ میں نام ڈالنے کے فیصلے کو گلالئی اسماعیل نے چیلنج کیا تھا جس پر اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس عامر فاروق نے 10جنوری کو فیصلہ محفوظ کیا تھا۔

البتہ ہائی کورٹ نے ہدایت کی کہ انٹر سروسز انٹیی جنس(آئی ایس آئی) کی تجاویز کی روشنی میں وزارت داخلہ گلالئی کا پاسپورٹ ضبط کرنے کے ساتھ ساتھ دیگر مناسب اقدامات کرے۔

گزشتہ سال نومبر میں اسلام آباد ہائی کورٹ کو بتایا گیا تھا کہ گلالئی کی مبینہ طور پر بیرون ملک ریاست مخالف سرگرمیوں کو دیکھتے ہوئے آئی ایس آئی نے ان کا نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ میں ڈالنے کی ہدایت کی تھی۔

مقدمے کی سماعت کے دوران گلالئی کے وکیل بابر ستار نے اعتراض اٹھاتے ہوئے کہا کہ کچھ پختون رہنماؤں کے خلاف درج ایف آئی آر میں ان کا نام درج نہ ہونے کے باوجود برطانیہ سے وطن واپس آتے ہی ان کی موکل کو گرفتار کر لیا گیا۔

اپنی درخواست میں گلالئی اسماعیل نے 12اکتوبر کو پاکستان واپسی پر فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی(ایف آئی اے) کی جانب سے ضبط کیے گئے پاسپورٹ اور دیگر سفری دستاویزات کی واپسی کا مطالبہ کیا، انہیں ایف آئی اے کے اسلام آباد آفس میں کچھ دیر کے لیے حراست میں رکھا گیا تھا۔

درخواست میں کہا تھا کہ گلالئی اسماعیل غیرسرکاری تنظیم آویئر گرلز(لڑکیوں میں آگاہی) کی سربراہ ہیں، خواتین کو بااختیار بنانے کے لیے ان کے کام کو مقامی اور عالمی سطح پر بہت سراہا گیا ہے۔

درخواست میں کہا گیا کہ ایف آئی اے نے 12اکتوبر کو لندن سے وطن واپسی پر انہیں گرفتار کر لیا تھا جہاں ان پر پشتون تحفظ موومنٹ سے تعلق اور مبینہ طور پر ریاست مخالف تقریریں کرنے کا الزام تھا۔

البتہ درخواست گزار نے کہا کہ وہ ایک محب وطن ہیں اور کبھی بھی ریاست مخالف سرگرمیوں میں ملوث نہیں رہیں۔

گلالئی اسماعیل نے کہا تھا کہ وفاقی حکومت نے ان کا نام ای سی ایل پر ڈال دیا جبکہ ایف آئی اے نے ان کا پاسپورٹ ضبط کر لیا اور انہیں اپنے دفاع میں کچھ کہنے کا موقع بھی نہیں دیا گیا، انہوں نے عدالت سے استدعا کی کہ ایگزٹ کنٹرول لسٹ سے ان کا نام نکلوایا جائے اور ایف آئی اے کو ان کا پاسپورٹ واپس کرنے کی بھی ہدایات دی جائیں۔

اپنے فیصلے میں جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ جس متنازع میمورنڈم کے تحت گلالئی کا نام ای سی ایل میں ڈالا گیا اسے خارج کیا جاتا ہے اور متعلقہ طرفین کو ہدایت کی جاتی ہے کہ وہ درخواست گزار کا پاسپورٹ انہیں واپس کریں۔

تاہم عدالت نے کہا کہ آئی ایس آئی کی جانب سے درخواست گزار کا نام ای سی ایل میں ڈالنے کی تجاویز کی روشنی میں اس امر کی ضرورت ہے کہ وزارت داخلہ کے مدعی اس معاملے پر ایکشن لینے کے لیے مناسب کارروائی کرنے کے لیے آزاد ہیں اور قانون کی روشنی میں ان کا پاسپورٹ بھی ضبط کر سکتے ہیں۔



آپ کیلئے تجویز کردہ خبریں‎‎

مقبول ٹیگ‎‎‎