قائمہ کمیٹی کا موبائل فون رجسٹریشن نظام پر نظِر ثانی کا مطالبہ

اسلام آباد: پارلیمانی کمیٹی نے وزارت انفارمیشن ٹیکنالوجی (آئی ٹی) سے مطالبہ کیا ہے کہ موبائل فون رجسٹریشن کے مجوزہ نظام پر نظرِ ثانی کر کے بیرونِ ملک سے آنے والے افراد کو ذاتی استعمال کے لیے ایک سے زائد فون لانے کی اجازت دی جائے۔


اجلاس میں پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کی سینیٹر اور قائمہ کمیٹی برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی اور ٹیلی کمیونکیشن کی چیئرمین روبینہ خالد کا کہنا تھا کہ ’پاکستان آنے والے مسافروں سے ان کے ذاتی اور بطور تحفہ لائے جانے والے موبائل فون رجسٹر کروانے کا مطالبہ بلا جواز ہے‘۔

اس موقع پر سینییٹر رحمٰن ملک نے کہا کہ ’یہ ہراساں کرنے کے زمرے میں آتا ہے اور اسے ختم کرنا چاہیے‘۔

کمیٹی اجلاس میں ایئرپورٹس پر موبائل فون پر وصول کرنے والے ٹیکس کےعمل کو بہتر بنانے کے اقدامات پر تبادلہ خیال کیا۔

بعدازاں پی ٹی اے نے اعلان کیا تھا کہ یہ ڈی آئی آر بی ایس 20 اکتوبر سے فعال ہوجائے گا جس کے بعد تمام غیر رجسٹرڈ موبائل ناکارہ ہوجائیں گے۔

لیکن اس وقت سے سینیٹ کمیٹی برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی مذکورہ اقدام پر عملدرآمد روکنے کے لیے متعدد مرتبہ وزارت آئی کو ہدایات کرچکی ہے۔

بعدازاں کمیٹی کی جانب سے موبائل فون رجسٹریشن کا نظام پیچیدہ قرار دینے کے بعد پی ٹی اے نے حمتی مدت میں توسیع کرتے ہوئے اسے یکم دسمبر تک بڑھا دیا تھا تاہم کمیٹی کے دباؤ پر اس میں 30 دن سے 60 دن کا اضافہ کردیا تھا۔

اس موقع پر سینیٹر میاں عتیق نے وزارت آئی ٹی سے کسی فرد کی جانب سے ذاتی استعمال کے لیے گئے فونز اور اسمگلنگ میں فرق روا رکھنے کی ہدایت کی۔

ان کا کہنا تھا کہ یہ نظام دنیا کے صرف 2 ممالک میں رائج ہے اور ناقابلِ عمل ہے، جبکہ تحریک انصاف کے سینیٹر فیصل جاوید نے اس سے اختلاف کرتے ہوئے کہا کہ یہ وسیع تر فوائد کے لیے بہتر ہے تاہم موبائل رجسٹریشن کا نظام آسان ہونا چاہیے تا کہ لوگوں کو پریشانی کا سامنا نہ ہو۔

اجلاس میں بتایا گیا کہ جنوری سے اب تک بیرونِ ملک سے آنے والے افراد نے کُل 34 پزار فونز کی رجسٹریشن کے لیے اپلائی کیا جس میں سے 116 افراد نے اضافی موبائل پر 15 لاکھ روپے ٹیکس ادا کیا۔

یہ خبر 14 مارچ 2019 کو ڈان اخبار میں شائع ہوئی۔



آپ کیلئے تجویز کردہ خبریں‎‎

مقبول ٹیگ‎‎‎