کرتارپورہ راہداری پر مذاکرات کے لیے پاکستانی وفد اٹاری روانہ

لاہور — پاکستان اور بھارت کے مابین حالیہ تناؤ کے بعد کرتارپورہ راہداری پر مذاکرات کے لیے پاکستانی وفد جمعرات کو بھارت روانہ ہو گیا ہے۔


کرتارپورہ راہداری منصوبے پر مذاکرات امرتسر کے قریب اٹاری میں ہو رہے ہیں اور پاکستانی سفارتی وفد وزارتِ خارجہ کے ڈائریکٹر جنرل جنوبی ایشا ڈاکٹر فیصل کی سربراہی میں شرکت کر رہا ہے۔

روانگی سے قبل واہگہ پر میڈیا سے بات کرتے ہوئے ڈاکٹر فیصل نے کہا کہ کرتاپورہ راہداری سے نا صرف سکھ برادری کو سہولت ملے گی بلکہ دونوں ملکوں کے درمیان امن بھی ہو گا۔

پلوامہ خودکش حملے کے بعد دونوں ہمسایہ ملکوں کے درمیان یہ پہلا باضابطہ سفارتی رابطہ ہے۔ اگرچہ یہ ملاقات پہلے سے طے تھی تاہم یہ رابطہ حالیہ جاری کشیدگی میں کمی کو ظاہر کرتی ہے۔

وفد کے سربراہ نے بتایا کہ جمعرات کو ہونے والے مذاکرات کا ایجنڈا صرف کرتار پورہ راہداری ہے، اِس کے علاوہ اور کوئی بات نہیں ہو گی۔

انھوں نے کہا کہ `وزیر اعظم اور آرمی چیف نے کرتار پور راہداری پر جو بات کی تھی آج اس کو حتمی شکل دینے کے لئے اور خطے میں امن کی خاطر آج پہلی میٹنگ کے لئے بھارت جا رہے ہیں۔ ملاقات میں گفتگو صرف کرتار پور راہداری کے حوالے سے ہو گی۔`

پاکستان نے کرتارپورہ راہداری کا سنگِ بنیاد گزشتہ برس نومبر سنہ 2018 رکھا تھا اور اس کیتکمیل اِس سال نومبر 2019 میں مکمل ہو گی۔

کرتار پور پاکستان کی سرحد کے اندر سکھ کمیونٹی کا ایک مقدس مقام ہے۔ وزیر اعظم عمران خان نے خیر سگالی کے اظہار کے طور پر کرتار پور میں بھارتی سکھوں کو کرتارپور کے لیے ویزہ فری انٹری کے ساتھ سرحد تک راہداری بنانے کا اعلان کیا تھا۔

28 مارچ کو بھارتی وفد کرتارپور کوریڈور معاہدے کے مسودہ کو حتمی شکل دینے کے لئے پاکستان آئے گا۔

ڈاکٹر فیصل کا کہنا تھا کہ پاکستانی وفد مذاکرات کے لیے مثبت پیغام لے کر جا رہا ہے۔

بھارت جانے والے پاکستانی وفد میں دفتر خارجہ، وزارت مذہبی امور، ذرائع مواصلات، متروکہ وقف املاک بورڈ اور وزارت قانون کے نمائندے شامل ہیں۔

دونوں ملکوں کے درمیان باضابطہ مذاکرات بھارتی پنجاب کے ضلع امرتسر کے سرحدی علاقے اٹاری میں ہونگے۔ ایک روزہ مذاکرات کے بعد پاکستانی وفد جمعرات کی شام کو ہی واپس آ جائے گا۔



آپ کیلئے تجویز کردہ خبریں‎‎

مقبول ٹیگ‎‎‎