بیرون ملک پاکستانیوں کے ڈیڑھ لاکھ بینک اکاؤنٹس کا سراغ لگا لیا گیا

فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے انکشاف کیا ہے کہ ادارے نے بیرون ملک پاکستانیوں کے ڈیڑھ لاکھ بینک اکاؤنٹس کا سراغ لگا لیا ہے۔


قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کا چیئرمین فیض اللہ کی زیر صدارت اجلاس ہوا۔ چیئرمین ایف بی آر حکام نے بریفنگ میں بتایا کہ بیرون ملک پاکستانیوں کے ڈیڑھ لاکھ بینک اکاؤنٹس سمیت دیگر 556 ہائی پروفائل کیسز کا بھی سراغ لگا لیا ہے جبکہ 10 لاکھ ڈالر مالیت والے 400 بینک اکاؤنٹس کا ڈیٹا بھی حاصل کرلیا گیا۔

بیرون ملک اثاثے رکھنے والے ایف بی آر میں پیش نہ ہوں تو جائیداد ضبط کی جائے، عدالت

چیئرمین ایف بی آر حکام نے بتایا کہ 8 ہزار بے نامی اکاؤنٹس کا بھی سراغ لگایا ہے جبکہ بینک 1 کروڑ مالیت کی ٹرانزیکشنز کی معلومات دے رہے ہیں، ہر کیس کا علیحدہ جائزہ لیا جا رہا ہے۔

چیئرمین ایف بی آر کے مطابق گزشتہ ہفتے ایک پاکستانی سے 17 کروڑ روپے ٹیکس ریکور کیا لیکن کتنا ٹیکس ریکور ہوگا اس کا ہدف طے نہیں کیا جاسکتا، بعض پاکستانیوں نے بیرون ملک ایک سے زیادہ اکاؤنٹس کھول رکھے ہیں۔

ایف بی آر نے ٹھیک کام نہ کیا تو نیا ایف بی آر بنادیں گے، عمران خان

جہانزیب خان کا کہنا تھا کہ بےنامی ٹرانزیکشن کے قانون سے ٹیکس چوری پر قابو پایا جائے گا اور اس قانون سے بلیک اکانومی کے راستے بھی بند ہونگے۔

چیئرمین کمیٹی فیض اللہ نے سوال اٹھایا کہ پاناما لیکس میں بھی سینکڑوں نام سامنے آئے، ایف بی آر بتائے اب تک کیا کارروائی کی گئی۔ چیئرمین ایف بی آر نے جواباََ کہا کہ بیرون ملک اکاؤنٹس سے متعلق کارروائی تیز ترین ہوگی لیکن کوئی ہدف مقرر کرنا مناسب نہیں ہوگا۔

ایف بی آر کا ایکسپورٹرز کو 7 ارب سے زائد کے ٹیکس ریفنڈ کرنیکا فیصلہ

انہوں نے کہا کہ پاناما لیکس کےتحت تصدیق شدہ افراد کو نوٹس جاری کیے گئے، اب تک 450 افراد کی معلومات اکھٹی کی گئی ہیں جس میں سے اب تک 15 کیسز پر کام ہوسکا۔ اب تک ان کیسز پر 6.5 ارب روپے ٹیکس ڈیمانڈ کی گئی ہے۔

قائمہ کمیٹی برائے خزانہ نے ایف بی آر کی بریفننگ پر عدم اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے ایف بی آر کو اس معاملے پر دوبارہ جامع بریفنگ دینے کی ہدایت کی۔



آپ کیلئے تجویز کردہ خبریں‎‎

مقبول ٹیگ‎‎‎