23مارچ کو ایک اعزاز عثمان خواجہ کو بھی دے دیا جائے؟

آسٹریلین نے پاکستانی نژاد کرکٹر عثمان خواجہ کی عمدہ کارکردگی کی بدولت بھارت کو ون ڈے سیریز میں 2-0 کے خسارے میں جانے کے بعد 2-3 سے مات دے کر سیریز اپنے نام کر لی۔


اس سیریز میں عثمان خواجہ کی کارکردگی انتہائی شاندار رہی جنہوں نے شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے پانچ میچوں میں 2 سنچریوں اور دو نصف سنچریوں کی مدد سے 383 رنز بنائے اور آسٹریلیا کو فتح سے ہمکنار کرایا۔

سیریز میں شکست پر جیاں بھارتی ٹیم کو شدید تنقید کا سامنا ہے وہیں آسٹریلین ٹیم کو عالمی سطح پر شدید پذیرائی ملی اور پاکستان کے کرکٹ ماہرین کے ساتھ ساتھ دیگر شعبوں کی بھی چند چیدہ شخصیات نے ذومعنی انداز میں آسٹریلین ٹیم خصوصاً عثمان خواجہ کی کارکردگی کو سراہا۔

پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے سربراہ میجر جنرل آصف غفور نے اپنی ٹوئٹ میں عثمان خواجہ کی کارکردگی کو سراہا لیکن ان کی ٹوئٹ کی خاص بات چند الفاظ کو خصوصی طور پر نمایاں کرنا تھا جن میں ’اسٹرائیک‘ اور ’کیپ‘ کے لفظ شامل ہیں۔

انہوں نے لکھا کہ عثمان خواجہ آپ نے ایک مرتبہ پھر شاندار کھیل پیش کیا، بہترین ’اسٹرائیک‘ ریٹ کے ساتھ آپ کی سنچری نے فرق پیدا کیا۔ آپ نے گزشتہ تین ون ڈے میچوں میں مسلسل عمدہ کارکردگی دکھا کر سیریز ہتھیا لی۔

اگر اس ٹوئٹ کی بات کی جائے تو میجر جنرل آصف غفور کے الفاظ کا اصل مقصد بھارت کی جانب سے پاکستان پر اسٹرائیک اور دہشت گردوں کے ٹھکانے تباہ کرنے کے جھوٹے دعوے پر طنز کرنا تھا۔

اسی طرح انہوں نے لفظ ’کیپ‘ کا استعمال بھی اس لیے کیا کیونکہ ابتدائی دو میچ جیتنے کے بعد سیریز کے تیسرے ون ڈے میچ میں بھارتی ٹیم اپنی فوج کی کیموفلاج کیپ پہن کر میدان میں اتری جس پر پاکستان نے انٹرنیشنل کرکٹ کونسل سے احتجاج بھی کیا تھا۔

تاہم یہ کیپ پہننے کے بعد سے ہی یکدم کایا پلٹ گئی اور جیت کی راہ پر گامزن بھارتی ٹیم اہم کھلاڑیوں سے محروم آسٹریلین ٹیم کے ہاتھوں لگاتار تین ون ڈے میچ ہار کر سیریز بھی گنوا بیٹھی۔

اس سے قبل بھی گزشتہ دونوں میچوں میں عمدہ کارکردگی پر میجر جنرل آصف غفور نے عثمان خواجہ کی کارکردگی کو سراہا تھا۔

صرف آئی ایس پی آر کے ترجمان نے ہی عثمان خواجہ کی کارکردگی کو نہیں سراہا بلکہ عمدہ کارکردگی پر وفاقی وزیر خزانہ بھی پاکستانی نژاد آسٹریلین بلے باز کو داد دیے بغیر نہ رہ سکے۔

انہوں نے کہا کہ جب سے بھارتی کرکٹ ٹیم نے فوجی کیپ پہنی، اس کے بعد سے عثمان خواجہ نے تین میچوں میں دو سنچریوں کی بدولت 98 کی اوسط سے 295 رنز بنائے۔

انہوں نے ازراہ مذاق ٹوئٹر صارفین سے سوال کیا کہ کیوں نہ 23مارچ کو ایوارڈز کی تقسیم کے دوران ایک اعزاز عثمان خواجہ کو بھی دیا جائے؟۔

اسد عمر کو اس ٹوئٹ پر ملے جلے ردعمل کا سامنا کرنا پڑا جہاں کچھ لوگوں نے عثمان خواجہ کو ایوارڈ دینے کی حمایت جبکہ کچھ لوگ اس حد تک سنجیدہ ہوئے کہ انہوں نے الٹا اسد عمر پر تنقید شروع کردی۔

ایک ٹوئٹر صارف نے وزیر خزانہ کی بات کی تائید کی تو دوسرے نے لکھا کہ عثمان خواجہ کہتے ہیں کہ انہیں آسٹریلیا میں پاکستان کا سفیر سمجھا جائے۔

ایک اور صاحب نے تو یہاں تک لکھا کہ اگر عثمان خواجہ یہاں سے الیکشن لڑے تو باآسانی جیت جائے گا۔

تاہم اس کے ساتھ ہی وزیر خزانہ کو اس طرح کی ٹوئٹ پر شدید تنقید کا بھی سامنا کرنا پڑا اور ایک صارف نے لکھا کہ ’معذرت کے ساتھ آپ جس عہدے پہ ہیں آپ کو اس طرح کے چٹکلے زیب نہیں دیتے‘۔

اسی طرح چند صارفین نے لکھا کہ معیشت کا بیڑا غرق کرنے پر وزیر خزانہ کو بھی اعزاز ملنا چاہیے جبکہ چند نے لکھا کہ ایک ایوارڈ آپ کا بھی بنتا ہے جو اپنی وزارت سے ہٹ کر ہر بات اچھی کرتے ہیں۔

اسی طرح اشعر جاوید نے لکھا کہ ڈی جی آئی ایس پی آر کا ٹوئٹ کرنا تو بنتا ہے کیونکہ بھارتی ٹیم نے فوجی کیپ پہنی تھی لیکن وزیر خزانہ کا اس بارے میں ٹوئٹ کرنا غیر ضروری ہے، جدوجہد کا شکار ہماری معیشت کی بحالی میں مدد کریں۔



آپ کیلئے تجویز کردہ خبریں‎‎

مقبول ٹیگ‎‎‎