پاکستان میں انٹرنیٹ ڈیٹا مہنگا نہیں ہے

وزیراعظم عمران خان کی ٹیلی کام ٹاسک فورس​ اور پاکستان ٹیلی کمیونی کیشن نے پاکستان میں انٹرنیٹ ڈیٹا مہنگا ہونے کی تردید کردی ہے اور کہا ہے کہ برطانوی ویب سائٹ کی رپورٹ پر بھروسہ نہ کیا جائے کیوں کہ یہ رینکنگ ادارہ غیر مستند ہے۔


انٹر نیٹ ڈیٹا کے حوالے سے پاکستان کا دنیا میں 33 واں نمبر ہے۔ خطے میں بھارت 8 ویں، بنگلہ دیش 14 ویں، اور ایران 37 ویں نمبر پرموجود ہے۔ پاکستان نے دو ٹوک کہہ دیا ہے کہ برطانوی نجی ویب سائٹ کی رینکنگ قابل اعتماد نہیں ہے۔

ٹیلی کام اتھارٹی کے رکن مدثر حسین نے بتایا کہ ریکنگ کا جو طریقہ کار ہے کہ وہ عالمی مستند ادارے ہی کر سکتے ہیں، جن میں آئی ٹی یو اور ورلڈ اکنامک فورم وغیرہ شامل ہیں۔

وزیراعظم کی ٹیلی کام ٹاسک فورس کے سربراہ پرویز افتخار نے بھی رکن پی ٹی اے کی تائید کردی ہے اور کہا ہے کہ رینکنگ کا یہ طریقہ کار ہی غلط ہے۔

برطانوی نجی ویب سائٹ نے اپنی رپورٹ میں یہ دعویٰ بھی کیا تھا کہ اس نے 230 ممالک پر جامع تحقیق کے بعد نتائج جاری کیے ہیں۔ ماہرین کے مطابق ایسی رپورٹس کا مقصد براڈ بینڈ بزنس پر اثر انداز ہونے کوشش ہوسکتا ہے۔



آپ کیلئے تجویز کردہ خبریں‎‎

مقبول ٹیگ‎‎‎