سپریم کورٹ کی اسکول کی زمین پر تجاوزات کا مسئلہ حل کرنے کی ہدایت

سپریم کورٹ نے گجرانوالہ میں لڑکیوں کے اسکول پر تجاوزات سے متعلق کیس کی سماعت کرتے ہوئے چیف سیکریٹری پنجاب یوسف نعیم کھوکر کو کل تک مسئلہ حل کرنے کی ہدایت جاری کردی۔


سماعت کے آغاز میں 3 رکنی عدالتی بینچ نےاستفسار کیا کہ محکمہ تعلیم کو عطیہ کی گئی زمین پر بنائی گئی تجاوزات ریگولرائز کیسے ہوئیں۔

عدالتی بینچ نے استفسار کیا کہ ٹرسٹ کی زمین پر کچی آبادی کیسے بن گئی۔

دورانِ سماعت عدالتی بینچ میں موجود جسٹس گلزار احمد نے ریمارکس دیے کہ ’ٹرسٹ کی زمین کو ریگولرائز کرنا غیرقانونی ہے‘۔

سماعت کے دوران عدالت میں موجود ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل فیصل چوہدری نے بتایا کہ حکومت صوبائی محکمہ تعلیم کو متبادل زمین دینے کے لیے تیارہے جس پر جسٹس گلزار احمد نے استفسار کیا کہ اسکول کے لیے زمین کلومیٹر دور دینے کا کیا جواز ہے۔

جسٹس گلزار احمد نے استفسار کیا حکومت ہمیں لالی پاپ کیوں دے رہی ہے؟ انہوں نے ریمارکس دیے کہ آپ کچی آبادی کو منتقل کیوں نہیں کرتے؟ بچے 13 کلومیٹر دور کیسے جائیں گے؟

انہوں نے حکام کی جانب سے غیرقانونی کارروائیوں میں ملوث عہدیداران کے خلاف کیے جانے والے اقدامات سے متعلق آگاہ کیے جانے کا مطالبہ کیا۔

جسٹس گلزار احمد نے خبردار کیا کہ چیف سیکریٹری پنجاب مسئلہ حل کریں ورنہ نتائج بھگتیں۔

انہوں نے ریمارکس دیے کہ ’ اگر چیف سیکریٹری ایک چھوٹا سا مسئلہ بھی حل نہیں کرسکتے تو وہ عہدے پر کیوں ہیں‘؟

بعد ازاں عدالت نے کیس کی سماعت کل تک ملتوی کردی۔

.



آپ کیلئے تجویز کردہ خبریں‎‎

مقبول ٹیگ‎‎‎