مدھم مدھم لہجے میں دنیا دکھانے والا جادوگر۔۔۔ وقار احمد

ذرا دیر کو آنکھ بند کرکے اس دنیا میں چلے جائیے جس میں نہ فیس بک ہے اور نہ ٹیلی وژن کے سینکڑوں چینلز، نہ ٹیلیفون اٹھا کر باہر کے ملکوں سے بات کرنے کی سہولت ہیں۔ تو ہے کیا؟ بس یہ کہ آپ کا قومی ریڈیو سٹیشن ہے اور باہر کے کچھ ریڈیو سٹیشن ہیں شارٹ ویو پر آپ کو دنیا کے حالات بناتے کی کوشش کر رہے ہیں اور آپ دم سادھے ہوئے رڈیو سے کان لگائے بیٹھے ہیں جس میں کھڑ کھڑ کی آواز کے ساتھ کچھ جملے آپ کو سنائی دے رہے ہیں اور اسی کھڑکھڑ کرنے والے رڈیو سٹیشن کو سننے کے لیے کراچی میں لاہور میں پشاور میں کوئٹہ میں لوگوں کے ہجوم پان والوں کی دکانوں کے سامنے لگے ہوں۔


یہ ہجوم سیربین سننے کے لیے جمع ہوا ہے۔ بی بی سی اردو سروس شام کو آٹھ بجے والے حالات حاضرہ کے پروگرام سیربین کو سننےکے لیے جس کو پیش کرنے والے کا نام ہے وقار احمد۔

وقار احمد جیسے لوگ اب بہت مشکل سے ملتے ہیں۔ ہہت تیز ذہن جس میں معلومات کو جذب کرنے کی بے پناہ صلاحیت ہو اور ان معلومات سے برجستہ نتیجہ اخذ کرنے کا ملکہ ہو۔ زبان پر ایسا قابو کہ ہر لفظ نپا تلا ادا ہو رہا ہو۔ کہیں سکتہ نہ ہو، ہچکچاہٹ نہ ہو، تذبذب نہ ہو اور لہجہ ایسا رواں جس میں بہت کم اتار چڑھاؤ ہو۔ مدھم مدھم، بے تکان۔ سننے والے کے کانوں میں قطرہ قطرہ الفاظ ٹپکانے والا لہجہ۔

وقار احمد تاریخ دان تھے۔ لکھنؤ کرسچیئن کالج، علی گڑھ یونیورسٹی، الہ آباد یونیورسٹی، اور آخر میں یونیورسٹی آف لندن سے پولیٹیکل سائنس اور تاریخ کے مضامین کی ڈگریاں لینے کے بعد کئی برس وہ کراچی یونیورسٹی میں تاریخ پڑھاتے رہے تھے اور پھر پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف انٹرنیشنل افیئرز سے وابستہ رہے۔ تعلیم اور پھر تدریس نے ان میں تجزیہ کی بے پناہ صلاحیت پیدا کر دی تھی۔ لیکن اتفاق دیکھیئے کے ان کا اصل شوق براڈ کاسٹنگ تھا۔

یہ بھی سنیے

سن پچاس کی دہائی میں جب وہ لندن میں زیرِ تعلیم تھے تو ان کی اہلیہ ریحانہ بھی لندن سکول آف اکنامکس میں زیرِ تعلیم تھیں۔ ابھی وہ زمانہ نہیں آیا تھا جب لندن کے محلے کے محلے ہندوستان، پاکستان اور بنگلہ دیش کے لوگوں سے بھرے ہوئے تھے۔ لندن میں زیادہ تر طلبا تھے۔ دلی، لکھنؤ، ڈھاکہ، لاہور اور کراچی سے آئے ہوئے۔

بی بی سی نے تازہ تازہ ہندوستانی سروس کا چولا اتار کے دو سیکشن بنا دیے تھے۔ انڈین سیکشن اور پاکستان سیکشن۔

ہندوستانی سروس میں ایک مشترکہ زبان برتنے کی جو پابندی تھی وہ ختم ہوگئی تھی اور پاکستان سیکشن میں بہار آ گئی تھی کہ اب آپ اپنی اردو زبان بے دھڑک استعمال کر سکتے ہیں۔ پینتالیس منٹ کی نشریات میں پندرہ منٹ خبروں اور تبصروں کے لیے مقرر تھے، باقی آدھے گھنٹے میں عام دلچسپی کے پروگرام نشر کیے جاتے۔ اور ان میں ڈرامے نشریات کی جان تھے۔ شیکسپیئر، مارلو، برناڈ شاہ کے ڈرامے، یورپی، روسی ڈرامے۔ ان کے اردو میں ترجمے ہوتے اور طالبعلموں کی کھیپ ان میں ایکٹنگ کرتی۔ یاد رکھیے یہ ریڈیو کا کھیل تھا۔ نہ ٹیلی کاسٹ، نہ پوڈ کاسٹ۔ بی بی سی پاکستان سیکشن کے اسٹاف میں صدیق احمد صدیقی، امجد علی، رازمراد آبادی، لالہ جاوید، یاور عباس اور نور احمد چوہاں تھے لیکن طلبا میں زیادہ تر وہ تھے جنھوں نے بعد میں پاکستان میں بڑا نام کمایا۔ منیب الرحمان، ڈاکٹر اجمل ڈاکٹریٹ کر رہے تھے۔ اعجاز بٹالوی بیرسٹری۔ عبد الحمید شیخ اور ضیا محی الدین رائل اکیڈمی آف ڈرامیٹک آرٹس میں ڈرامے کی تربیت لے رہے تھے۔ وقار احمد بھی انہی طلبا کی صف میں شامل ہو گئے اور کچھ ہی دنوں کے بعد باقاعدہ اسٹاف میں شامل کر لیے گئے۔

چند سال بی بی سی میں کام کرنے کے بعد وہ کراچی چلے گئے۔ کراچی یونیورسٹی میں تدریس میں مصروف رہے پھر جیسا ذکر آ چکا ہے بین الاقوامی امور کے انسٹیٹیوٹ میں رہے اور اسی زمانے میں 1970 کے وہ تاریخ ساز قومی انتخابات ہوئے جن میں ذوالفقار علی بھٹو کا ڈنکا بج رہا تھا اور ان انتخابات کے نتائج ٹی وی پر پیش کرنے والوں میں وقار احمد اور اطہر علی تھے۔ کہتے ہیں کہ اس وقت تک دنیا میں کہیں بھی ٹیلیوژن کی اتنی بڑی مسلسل نشریات پیش نہیں کی گئی تھیں۔ واللہ اعلم بالصواب۔

فروری 1971 میں وہ دوبارہ بی بی سی میں آگئے اور اب وہ دور شروع ہوا جس میں ایک جانب اردو نشریات میں بی بی سی نے وہ نام پیدا کیا جس کی نظیر نہ پہلے ملتی ہے نہ اس کے بعد۔ 1971 میں بنگلہ دیش کی جنگ نے اردو سننے والوں کے دلوں پر بی بی سی کی نشریات کا سکہ جما دیا تھا۔ آدھ گھنٹے کا سیربین پروگرام صرف ان ملکوں کے لیے مخصوص نہیں تھا جسے ہم لوگ بریصغیر کے ملک کہتے ہیں اور جو آج کل جنوبی ایشیا کہلاتا ہے۔ یہ بین الاقوامی حالاتِ حاضرہ کا پروگرام تھا اور اس دن کی خبروں پر منحصر خبریں اپنا مقام حاصل کرتی تھیں۔ اس اعتبار سے ہندوستان پاکستان وغیرہ کو کوئی خاص اولیت حاصل نہیں تھی۔ بلکہ بعض اوقات تو صرف چند منٹ کا ایک مراسلہ جو اسلام آباد یا دلی سے بی بی سی کے نامہ نگار نے بھیجا ہو وہی نشر ہو جاتا تھا۔ مثال کے طور پر جنرل ضیا کے دور میں سندھ میں جو احتجاج ہوا تھا اس کی خبریں بی بی سی کے نامہ نگار ایئن ہور ایک مراسلے میں بھیج دیتے تھے۔

کرشمہ ایک آدھ مراسلہ کا نہیں تھا بلکہ اس کی پیش کرنے کے انداز کا تھا۔ جن الفاظ کے ساتھ اس مراسلے کا تعارف کرایا جائے۔ الفاظ پر کہاں زور دیا جائے۔ کہیں ٹھہریا جائے تاکہ ہر لفظ دل نشین ہو سکے۔ وقار الفاظ کے جادوگر تھے۔ بہت ٹھہر ٹھہر کے کسی عجلت کے بغیر کوئی ڈرامہ کیے بغیر وہ ریڈیو پر بولتے تھے۔ وہ مراسلے کو اتھارٹی بخش دیتے تھے۔ کہ جو کچھ کہا جا رہا ہے وہ سو فیصد درست ہے۔ یہ جادوگردی تھی جو وقار صاحب کی آواز سے حاصل ہوتی تھی۔

یہ بات ریڈیو اور مائیکروفون تک محدود نہیں تھی۔ بریصغیر کے چھوٹے بڑے کسی بھی ملک میں ہندوستان، پاکستان، بنگلہ دیش، سری لنکا، نیپال، بھوٹان، افغانستان حتیٰ کہ برما میں بھی اگر کوئی قابلِ ذکر واقعہ ہوتا تو نیوز روم کے لوگ مشورے کے لیے اردو سیکشن میں آتے اور وقار احمد سے مشورے کیے جاتے تھے۔

مسز گاندھی نے جس دن ہندوستان میں ایمرجنسی کا اعلان کیا تو نیوز روم کے لوگ ہندی سروس میں نہیں گئے حالانکہ وہاں انچارج ایون چارلٹن تھے جو بریصغیر کے ماہر گردانے جاتے تھے۔ نیوز روم کے لوگ اردو سیکشن میں آئے اور ڈیوڈ پیج اور وقار احمد سے مشورے کیے گئے۔ وقار احمد کی وجہ سے 1970 اور اسی اور نوے کی دہائیوں میں اس ایک چھوٹے سے ادارے نے جس میں پندرہ بیس سے زیادہ کام کرنے والے نہیں تھے، جو ہندوستان پاکستان سے پانچ ہزار میل دور تھے آج کل کی طرح ٹیلی فون وغیرہ کی سہولت بھی موجود نہیں تھی، اس ادارے نے وہ شہرت اور وہ مقام حاصل کر لیا تھا جس کو دیکھ کے سارے بیرونی نشریاتی ادار ے حیران بھی تھے اور اس کی نقل بھی کرنا چاہتے تھے۔

وقار عام زندگی میں بھی بہت رکھ رکھاؤ کے آدمی تھے۔ ہر ایک سے شفقت سے پیش آتے تھے۔ ساتھیوں کو ان کی غلطیوں پر جھڑک بھی دیتے تھے لیکن عام طور سے لوگ اس کو ایک استاد کی غلطی سے بھی تعبیر کیا کرتے تھے۔

ان کے گھر پر شاعری اور ادبی محفلیں خوب جمتی تھیں۔ فیض صاحب سے انھیں خاص طور پر قربت حاصل تھی اور ان کے اعزاز میں محفل ضرور گرم ہوتی تھی۔

وقار صاحب یوپی کے مذہبی گھرانے میں پیدا ہوئے لیکن بہت وسیع المشرب انسان تھے۔ انسانیت پر، جمہوریت پر اعتقاد رکھتے تھے۔ گفتگو میں آپ سے اختلاف تو بھلے کر لیں گے لیکن آپ کی رائے کو کمتر کبھی نہیں سمجھیں گے۔

وقار احمد نے اپنے پیچھے اپنی رفیقہ حیات ریحانہ بیٹے ندیم اور دو بیٹیوں دشکہ اور منیزہ کو چھوڑا ہے۔

وقار احمد 1930 سیتاپور یو پی

2019 ہیرو لندن



آپ کیلئے تجویز کردہ خبریں‎‎

مقبول ٹیگ‎‎‎