کراچی: گداگروں کےخلاف کریک ڈاؤن کی تیاری، 50 مقامات کی نشاندہی

کراچی پولیس نے گداگروں کے خلاف کریک ڈاؤن کے لیے تقریباً 50 مقامات کی نشاندہی کرلی۔


سٹی پولیس چیف ایڈیشنل آئی جی کراچی ڈاکٹر عامراحمد شیخ نے بتایا کہ ’پولیس نے تقریباً 50 عوامی مقامات کی نشاندہی کرلی جہاں گداگروں کے خلاف کریک ڈاؤن ہوگا‘۔

انہوں نے بتایا کہ پولیس نے شہر میں ویلفیئرہوم (رفاہی ادارے) کے قیام کی غرض سے صوبائی حکومت سے رابطہ کیا جس کے امور مخیرحضرات کے تعاون سےچلایا جائےگا۔

ڈاکٹر عامر احمد شیخ نے بتایا کہ ’گداگروں کی گرفتاری اور ان پر جرمانہ عائد کرنا مسئلے کا حل نہیں کیونکہ والدین سمیت بچے بھی پیشہ وارانہ گداگری کرتے ہیں‘۔

کورنگی میں میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ گداگروں کی گرفتاری انہیں متعلقہ عدالت میں پیش کرنا پولیس کی ذمہ داریوں میں شامل ہے جبکہ عدالیہ چاہتی ہے کہ ’ویلفیئر ادارے بھی قائم کیے جائیں‘۔

ان کا کہنا تھا کہ ’مسئلہ یہ ہے کہ گداگر اپنے بچوں کے ہمراہ آتے ہیں اور پولیس بچوں کو ان کی ماں یا باپ سے علیحیدہ نہیں کرسکتی‘۔

آئی جی کراچی نے بتایا کہ ’رفائی ادارے کی عدم موجودگی کے باعث ججز بھی محض معمولی جرمانہ عائد کرکے گداگروں کو رہا کردیتے ہیں‘۔

سی ویو پر شادی شدہ جوڑے پر تشدد اور انہیں ہراساں کرنے والے 4 پولیس اہلکاروں کو ملازمت سے برطرف کیے جانے سے متعلق آئی جی کراچی نے یقین دلایا کہ شہریوں کے ساتھ تضحیک اور نارواسلوک برتنے والے پولیس افسران اور اہلکاروں کی فورس میں موجودگی کی ہرگز گنجائش نہیں۔

انہوں نے کہا کہ ’ہم پولیس نظام میں مزید بہتری کے لیے کوشاں ہیں اور پولیس کلچر میں سیمینارز سمیت متعدد اقدامات اٹھائے جارہے ہیں‘۔

ان کا کہنا تھا کہ ’محض چند اہلکاروں کے قابل اعتراض عمل کے نتیجے میں پوری فورس کو بدنام نہیں ہونے دیں گے‘۔

ڈاکٹر عامراحمد شیخ نے افسوس کا اظہار کیا کہ ’سوشل میڈیا پر برسوں پرانی ویڈیوز کے ذریعے پولیس کو بدنام کرنے کی کوشش کی جارہی ہے‘۔

تعلیمی اداروں میں منشیات سے متعلق آئی جی کراچی نے زور دیا کہ ’قانون میں ترمیم کی اشد ضرورت ہے جس کی بنیاد پر منشیات فروش آسانی کے ساتھ ضمانت حاصل کرلیتے ہیں‘۔

انہوں نے کہا کہ ’پولیس نے انسداد منشیات فورس سے منشیات کی وبا کے خاتمنے کے لیے تعاون طلب کیا ہے‘۔

واضح رہے کہ موجودہ قانون کی رو سے ایک سے 100 گرام منشیات کا ملزم عدالت سے ضمانت لے سکتا ہے جبکہ ایک گرام آئس منشیات 4 افراد کے لیے بہت ہوتی ہے اور اس کی قیمت 700 روپے سے 2 ہزار کے درمیان ہوتی ہے۔

اس حوالے سے بتایا گیا کہ پولیس نے متعلقہ حکام کو مراسلہ لکھا جس میں قانونی ترمیم کرکے منشیات فروشی ناقابل ضمانت قرار دینے پر زور دیا۔



آپ کیلئے تجویز کردہ خبریں‎‎

مقبول ٹیگ‎‎‎