سیرین ڈیموکریٹک فورسز کی داعش کے آخری ٹھکانے باغور کی جانب پیش قدمی

— شام کے مشرقی حصے میں امریکی حمایت یافتہ ملیشیا کا کہنا ہے کہ انہوں نے جمعرات کے روز جھڑپوں اور امریکی قیادت کے فضائی حملوں کے بعد داعش کو اپنے آخری محصور ٹھکانے میں مزید اندر دھکیل دیا ہے۔


شامی جمہوری فورسز کا کہنا ہے کہ وہ اس ہفتے باغوز پر قبضے کے لیے دیہاتوں اور کھیتوں میں ہونی والی لڑائیوں میں تقریباً کامیاب ہو چکے ہیں، لیکن داعش کے باقی ماندہ جہادی اپنے آخری ٹھکانے کو بچانے کے لیے حملوں کی منصوبہ بندی کر رہے ہیں جن میں خودکش بمباروں کے حملے بھی شامل ہیں۔

سیرین ڈیموکریٹک فورسز کے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ، ’’ہمارے جنگجو تازہ جھڑپوں کے بعد، جن میں دہشت گردوں کو بہت بھاری نقصان اٹھانا پڑا ہے، داعش کے زیر قبضہ علاقے میں بہت اندر تک داخل ہو چکے ہیں اور انہوں نے وہاں اپنے نئے مورچے قائم کر لیے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ، ’’شامی جمہوری اتحاد نے داعش کے حملے ناکام بنائے اور ان کے ہتھیاروں کے ڈپو کو تباہ کر دیا۔‘‘

کردش ٹیلی وژن، روناہی ٹی وی نے علاقے کی لائیو فوٹیج دکھائی جس میں باغوز سے آگ کے بلند شعلے بلند ہوتے ہوئے دیکھے جا سکتے ہیں۔

شامی جمہوری فورسز کا کہنا ہے کہ جمعرات کو ہونے والی جھڑپوں میں داعش کے 15 جنگجو مارے گئے۔

داعش کو، جو اب بھی شام اور عراق کی سرحد پر موجود ہے، خطے کے لئے ایک خطرے کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔

خبررساں ادارے رائیٹرز کے مطابق شام کی جمہوری فورسز باغوز پر حملے کے لئے کئی ہفتوں سے تیاری کر رہی تھیں جن میں محصور علاقے سے عام شہریوں کا انخلا بھی شامل تھا، جن داعش کے اکثر جنگجوؤں کے بیوی بچے بھی ہیں۔



آپ کیلئے تجویز کردہ خبریں‎‎

مقبول ٹیگ‎‎‎