کرتار پور راہداری منصوبہ کیا ہے؟

اسلام آباد: (دنیا نیوز) سکھوں کے لیے مقدس مقام گوردوارہ کرتارپور ضلع نارروال میں واقع ہے۔ اس مقام پرسکھ مذہب کے بانی بابا گرونانک نے زندگی کے آخری ایام گزارے تھے۔


یہ گوردوارہ لاہور سے 120 کلومیٹر کے فاصلے پر تحصیل شکر گڑھ کے بھارتی سرحد پر گاؤں کوٹھہ پنڈ میں واقع ہے۔

پاکستان کے منصوبے کے تحت کرتارپور میں بارڈر ٹرمینل کی تعمیر ہو گی اور دریائے راوی پر پل بنے گا۔ سرحد کے دونوں طرف راہداری مکمل ہونے کے بعد سکھ زائرین کو بارڈر سے گوردوارے تک ویزے کے بغیر سپیشل پرمٹ پر رسائی دی جائے گی۔

منصوبے پر تیزی سے کام جاری ہے جس کا چالیس فیصد کام مکمل کر لیا گیا ہے۔ یہ منصوبہ رواں سال بابا گرونانک کے 550 ویں جنم دن کے موقع پر مکمل کرنے کا ہدف ہے۔

سرحد کے دوسری جانب بھارت کا ضلع گورداس پور واقع ہے۔ بھارت نے راہداری کے لیے ڈیرہ بابا نانک نامی علاقے کو زیرو پوائنٹ مقرر کیا ہے۔ بھارت وہاں مسافر ٹرمینل بلڈنگ کمپلیکس اور چیک پوسٹیں قائم کرے گی۔

اس پر 190 کروڑ بھارتی روپے لاگت آئے گی۔ ٹرمینل پر روزانہ پانچ ہزار سکھ یاتریوں کو کسٹم اور امیگریشن کی سہولیات ملیں گی۔



آپ کیلئے تجویز کردہ خبریں‎‎

مقبول ٹیگ‎‎‎