سپریم کورٹ کراچی رجسٹری سے ضمانت مسترد ہونے پر ملزم فرار

کراچی: (دنیا نیوز) چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ ملزم سات سال عبوری ضمانت پر رہا، کیا کوئی اس کا جواز دے سکتا ہے؟ سندھ ہائی کورٹ اور ٹرائل کورٹ کو بھی پیغام جانا چاہیے۔


قتل کیس میں ضمانت قبل از گرفتاری کا معاملہ، سات سال سے عبوری ضمانت کے مزے لینے والا ملزم ضمانت مسترد ہونے پر سپریم کورٹ کراچی سے بھاگ کھڑا ہوا۔ چیف جسٹس پاکستان نے ملزم کی سات سال تک عبوری ضمانت کو دھچکا قرار دے دیا۔

سپریم کورٹ کراچی رجسٹری میں ملزم پیر ارشاد علی شاہ کی ضمانت قبل از گرفتاری کا معاملہ زیر سماعت آیا تو چیف جسٹس کی سربراہی میں دو رکنی بنچ نے درخواست ضمانت مسترد کر دی۔ ملزم نے فیصلہ سنتے ہی دوڑ لگا دی اور باآسانی فرار ہو گیا۔

چیف جسٹس پاکستان نے ملزم کی سات سال تک عبوری ضمانت کو دھچکا قرار دیتے ہوئے ریمارکس دیے کہ کیا کوئی 7 سال تک عبوری ضمانت پر رہنے کا جواز دے سکتا ہے؟

چیف جسٹس نے کہا کہ سندھ ہائی کورٹ اور ٹرائل کورٹ کو بھی پیغام جانا چاہیے۔ سندھ ہائی کورٹ نے عبوری ضمانت پر 5 سال بعد فیصلہ جاری کیا۔ ہائیکورٹ میں 2012ء میں ضمانت کی درخواست دائر ہوئی اور 2018ء میں فیصلہ ہوا۔ قتل کیس میں ملزم کو اتنا عرصہ عبوری ضمانت پر رکھنے کا کوئی جواز نہیں ہے۔

ایڈیشنل پراسیکیوٹر جنرل نے بتایا کہ ملزم نے 2012ء میں ایک شخص کو قتل اور دوسرے کو زخمی کیا تھا۔ ملزم کے خلاف تھانہ حیدر آباد میں مقدمہ درج ہے۔ ملزم اور مقتول پارٹی کے درمیان زمین کے تنازع پر جھگڑا ہوا تھا۔ عدالت نے ملزم کی گرفتاری کے لیے پولیس کو حکم جاری کر دیا۔



آپ کیلئے تجویز کردہ خبریں‎‎

مقبول ٹیگ‎‎‎