‘خاشقجی قتل کیس میں عالمی دباؤ داخلی امور میں مداخلت تصور ہوگا‘

سعودی عرب نے صحافی جمال خاشقجی کے قتل میں عالمی اور آزاد تحقیقاتی اداروں کی پیشکش کو مسترد کرتے ہوئے زور دیا کہ ریاض ملزمان کے خلاف انصاف کے تمام تقاضے پورے کرنے کی بھرپور صلاحیت رکھتا ہے۔


جینیوا میں اقوام متحدہ انسانی حقوق کونسل سے خطاب کرتے ہوئے سعودی وفد کے سربراہ نے واضح کیا کہ ’ان کا ملک تمام ممکنہ اقدامات اٹھارہا ہے تاکہ گھناؤنے جرم کو منطقی انجام تک پہنچایا جائے‘۔

سعودی عرب میں انسانی حقوق کمیشن کے سربراہ بندر العیبان نے خبردار کیا کہ جمال خاشقجی سے متعلق تحقیقات کو عالمی ادارے کے ماتحت کرنے کا دباؤ دراصل ملک کے داخلی امور میں مداخلت تصور کیا جائےگا‘۔

واضح رہے کہ گزشتہ ہفتے تقریباً 36 ممالک کی جانب سے مشترکہ بیان جاری کیا جس میں جمال خاشقجی کے قتل سے متعلق انصاف کے تقاضے پورے کرنے پر زور دیا گیا۔

جمال خاشقجی کو 2 اکتوبر 2018 کو ترکی میں سعودی قونصل خانے کے اندر قتل کردیا گیا تھا۔

مقتول واشنگٹن پوسٹ کے لیے لکھتے تھے اور سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کی پالیسوں پر تنقید کرتے تھے۔

بعدازاں سعودی عرب نے ابتدائی طور پر جمال خاشقجی کی ’عدم موجودگی‘ کے بارے میں لاعلمی کا اظہار کیا تھا۔

انہوں نے تصدیق کی کہ ریاض کو جمال خاشقجی قتل کی تحقیقات سے متعلق نام نہاد یونیورسل پریوڈک ریویو کی جانب سے تجاوزات گزشتہ برس نومبر میں موصول ہوئی تھی۔

سعودی عرب میں انسانی حقوق کمیشن کے سربراہ نے دعویٰ کیا کہ ’مشتبہ شخص کے خلاف شفاف ٹرائل ہوگا اور کسی کے ساتھ انسانی حقوق کی خلاف ورزی نہیں ہوئی، کسی پر تشدد یا کسی کے ساتھ غیرانسانی سلوک برتاؤ نہیں کیا گیا۔

بندر العیبان نے کہا کہ ’جمال خاشقی قتل کیس میں تاحال تین سماعتیں ہوئی ہیں، ملزمان اور ان کے وکیل بھی موجود تھے‘۔

ان کا کہنا تھا کہ ’عالمی تنظیم سمیت این جی اوز اور دیگر اسٹیک ہولڈز پر عدالتی کارروائی دیکھ سکتے تھے‘۔ تاہم انہوں نے یہ نہیں بتایا کہ کس اداروں کو عدالت میں سماعت سننے کی اجازت دی گئی۔

سعودی شاہی خاندان اور ولی عہد محمد بن سلمان کے اقدامات کے سخت ناقد سمجھے جانے والے سعودی صحافی جمال خاشقجی گزشتہ ایک برس سے امریکا میں مقیم تھے۔

تاہم 2 اکتوبر 2018 کو اس وقت عالمی میڈیا کی شہ سرخیوں میں نظر آئے جب وہ ترکی کے شہر استنبول میں قائم سعودی عرب کے قونصل خانے میں داخل ہوئے لیکن واپس نہیں آئے، بعد ازاں ان کے حوالے سے خدشہ ظاہر کیا گیا کہ انہیں قونصل خانے میں ہی قتل کر دیا گیا۔

صحافی کی گمشدگی پر ترک حکومت نے فوری ردعمل دیتے ہوئے استنبول میں تعینات سعودی سفیر کو وزارت خارجہ میں طلب کیا جس کے بعد دونوں ممالک کے درمیان تعلقات میں کشیدگی کا خدشہ پیدا ہوا۔

تاہم ترک حکام نے میڈیا کو بتایا تھا کہ ان کا ماننا ہے کہ سعودی صحافی اور سعودی ریاست پر تنقید کرنے والے جمال خاشقجی کو قونصل خانے کے اندر قتل کیا گیا۔

سعودی سفیر نے صحافی کے لاپتہ ہونے کے حوالے سے لاعلمی کا اظہار کرتے ہوئے تفتیش میں مکمل تعاون کی پیش کش کی تھی۔

تاہم 12 اکتوبر کو یہ خبر سامنے آئی تھی کہ سعودی صحافی جمال خاشقجی کی گمشدگی پر آواز اٹھانے والے 5 شاہی خاندان کے افراد گزشتہ ہفتے سے غائب ہیں۔

اس کے بعد جمال خاشقجی کے ایک دوست نے دعویٰ کیا تھا کہ سعودی صحافی شاہی خاندان کی کرپشن اور ان کے دہشت گردوں کے ساتھ تعلقات کے بارے میں بہت کچھ جانتے تھے۔

سعودی صحافی جمال خاشقجی کی گمشدگی کے معاملے پر امریکی سیکریٹری آف اسٹیٹ مائیک پومپیو نے سعودی فرمانروا شاہ سلمان بن عبدالعزیز سے براہِ راست ملاقات بھی کی تھی۔

اس کے علاوہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بیان دیا تھا کہ اگر اس معاملے میں سعودی عرب ملوث ہوا تو اسے سخت قیمت چکانا پڑے گی۔

17 اکتوبر کو بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کی سربراہ کرسٹین لاگارڈے نے معروف صحافی کی مبینہ گمشدگی کے بعد مشرق وسطیٰ کا دورہ کیا تھا اور سعودی عرب میں سرمایہ کاری کانفرنس میں شرکت ملتوی کردی تھی۔

اسی روز سعودی صحافی خاشقجی کی گمشدگی کے بارے میں نیا انکشاف سامنے آیا تھا اور کہا گیا تھا کہ انہیں تشدد کا نشانہ بنا کر زندہ ہی ٹکڑوں میں کاٹ دیا گیا۔

دریں اثناء 20 اکتوبر کو سعودی عرب نے باضابطہ طور پر یہ اعتراف کیا تھا کہ صحافی جمال خاشقجی کو استنبول میں قائم سعودی قونصل خانے کے اندر جھگڑے کے دوران قتل کردیا گیا۔

علاوہ ازیں گزشتہ ماہ امریکا کی سینٹرل انٹیلی جنس ایجنسی (سی آئی اے) کی جانب سے یہ نتیجہ اخذ کیا گیا تھا کہ سعودی صحافی جمال خاشقجی کا قتل طاقتور سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کے حکم پر ہوا۔



آپ کیلئے تجویز کردہ خبریں‎‎

مقبول ٹیگ‎‎‎