ایک عام عارضے کی وہ علامات جن سے اکثر واقف نہیں

انتہائی شدید تھکاوٹ جس کے دوران آپ کے لیے روزمرہ کے عام کرنا بھی مشکل ہوجاتا ہے اور یہ معمول کی تھکن سے بالکل ہٹ کر تجربہ ہوتا ہے۔


درحقیقت یہ ایک کمزور کردینے والا عارضہ ہے جسے طبی زبان میں Chronic fatigue syndrome کہا جاتا ہے اور دنیا بھر میں لاکھوں افراد اس کے شکار ہوتے ہیں اور بیشتر میں اس کی تشخیص ہی نہیں ہوپاتی کیونکہ ایسا متخلف امراض کے دوران بھی ہوسکتا ہے جبکہ ایسا کوئی ٹیسٹ بھی نہیں جو اس کو شناخت کرسکے۔

یہی وجہ ہے کہ اس عارضے کی تشخیص کے لیے اس کی علامات پر انحصار کرنا پڑتا ہے جو مختلف ہوتی ہیں۔

عام طور پر اس عارضے کی پہلی علامت انتہائی شدید تھکاوٹ اور کمزوری کا احساس ہوتا ہے اور پھر وہ ایسا ہوتا ہے کہ زیادہ سونے سے بھی یہ تھکاوٹ دور نہیں ہوتی جو اس عارضے کی جانب اشارہ ہوتا ہے۔

اگر آپ دفتر جانے، بستر سے نکلنے یا گاڑی چلانے سے تھکاوٹ کے باعث قاصر ہوجائیں، تو اس بات کے قوی امکانات ہوتے ہیں کہ یہ Chronic fatigue syndrome کی علامت ہوسکتی ہے، اس عارضے میں روزمرہ کی سرگرمیوں کو سرانجام دینے کی صلاحیت متاثر ہوتی ہے۔

ہوسکتا ہے کہ آپ ہر وقت تھکاوٹ محسوس کریں مگر اس کی ایک علامت یہ بھی ہوتی ہے کہ سونے کی کوشش کرنے پر ناکامی ہوتی ہے، اور اگر کچھ نیند آبھی جائے تو ذہن اور جسم تازہ دم محسوس نہیں ہوتا بلکہ اٹھنے پر بھی تھکاوٹ کا احساس ہوتا ہے۔

اوپر درج علامات کے ساتھ اگر گلے میں سوجن کا بھی سامنا ہے تو یہ بھی اسی عارضے کی جانب نشاندہی ہوسکتی ہے، ایک تحقیق کے مطابق لمفی نوڈ اور گلے کی سوجن اس عارضے کی علامات ہیں۔

اس عارضے کے متاثر افراد ذہنی طور پر الجھن کے شکار، چیزیں بھولنے اور توجہ مرکوز کرنے میں مشکل کا سامنا کرسکتے ہیں اور اسے دماغی دھند بھی کہا جاسکتا ہے، جس کے دوران مسلسل تھکاوٹ، ناقص نیند، بولنے میں مشکل یا الفاظ یاد نہ آنا وغیرہ کا سامنا ہوتا ہے۔

سیدھا بیٹھنے یا کھڑے ہونے ہر سرچکرانے یا کمزوری کا احساس ہوتا ہے تو یہ بھی اسی عارضے کی علامت ہوسکتی ہے، اس کے ساتھ ساتھ نظر دھندلانے کی شکایت بھی ہوسکتی ہے۔

شدید تھکاوٹ کے شکار افراد کو اکثر سردرد یا آدھے سر کے درد کا سامان بھی ہوتا ہے جس کے ساتھ توجہ مرکوز کرنے اور دماغی دھند کا بھی سامان ہوتا ہے۔



آپ کیلئے تجویز کردہ خبریں‎‎

مقبول ٹیگ‎‎‎