عورت مارچ کے متظمین کے خلاف مقدمہ درج کرنے کی درخواست

کراچی — عورتوں کے عالمی دن کی مناسبت سے کراچی میں ہونے والے ’عورت مارچ‘ کے منتظمین کے خلاف مذہبی جذبات مجروح کرنے کے تحت مقدمہ درج کرنے کی درخواست دائر کر دی گئی ہے۔


رکن سندھ اسمبلی اور متحدہ مجلس عمل کے رہنما سید عبدالرشید کی جانب سے درخواست میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ 8 مارچ کو کراچی کے فرئیر ہال میں عورت مارچ کے نام پر ایسی سرگرمیاں منعقد کی گئیں جس میں اسلامی شعائر، قرآن و سنت اور خاندانی نظام کی کھلے عام توہین کی گئی اور مذہبی اشتعال انگیزی کو فروغ دیا گیا۔

درخواست گزار کے مطابق عورت مارچ میں ایسے بینرز اور پلے کارڈز بھی شامل تھے جس میں اسلامی معاشرے میں بے حیائی و فحاشی پھیلانے اور خاندانی نظام کو متنازع بنانے کی کوشش کی گئی۔

سید عبدالرشید کے مطابق اس سرگرمی سے خواتین کی تذلیل اور تضحیک کی گئی اور جان بوجھ کر اسلامی تعلیمات کی توہین کی گئی۔ درخواست میں کہا گیا ہے کہ اسلام اور آئین پاکستان خواتین کو مکمل حقوق اور تحفظ فراہم کرتا ہے لیکن بعض این جی اوز مخصوص ایجنڈے کے تحت اسلامی خاندانی نظام پر حملہ آور ہو کر معاشرے میں افراتفری پھیلانا چاہتی ہیں۔

وائس آف امریکہ سے بات کرتے ہوئے سید عبدالرشید کا کہنا تھا کہ عورت مارچ میں نظریہ پاکستان کے خلاف سرگرمیاں کی گئیں جو ملک کے اسلامی تشخص کو مسخ کرنے کی کوشش ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ حکومت کو اسے فوری روکنا چاہئیے تھا اور ان کے خلاف قانون کو خود حرکت میں آنا چاہئیے تھا لیکن ایسا نہیں ہوا۔

وائس آف امریکہ نے کئی بار ’عورت مارچ‘ کراچی کے منتظمین سے رابطے کی کوشش کی لیکن ان کی جانب سے کوئی جواب موصول نہیں ہوا۔

سوشل میڈیا پر بھی عورت مارچ کے منتظمین کی کوششوں کو ایک جانب پسند کیا گیا وہیں بہت سے شہریوں نے میں متنازع بینرز اور پلے کارڈز پر اسے سخت تنقید کا بھی نشانہ بنایا۔

کراچی پولیس کے ایک عہدے دار نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ درخواست موصول ہونے کے بعد قانونی رائے کے لیے اسے پولیس کی لیگل برانچ میں بھیج دیا گیا ہے۔



آپ کیلئے تجویز کردہ خبریں‎‎

مقبول ٹیگ‎‎‎