سانحہ سمجھوتا ایکسپریس سے متعلق کیس کی سماعت ایک بار پھر ملتوی

پنچکولا میں این آئی اے کی خصوصی عدالت میں سانحہ سمجھوتا ایکسپریس سے متعلق کسی کی سماعت ہونی تھی جسے وکلا کی ہڑتال کے باعث ملتوی کر دیا گیا— فوٹو: فائل


بھارت کی خصوصی عدالت میں سانحہ سمجھوتا ایکسپریس سے متعلق کیس کی سماعت ایک بار پھر ملتوی کردی گئی،کیس کی اگلی سماعت اب 18 مارچ کو ہوگی۔

پنچکولا میں این آئی اے کی خصوصی عدالت میں سانحہ سمجھوتا ایکسپریس سے متعلق کسی کی سماعت آج ہونی تھی جسے وکلا کی ہڑتال کے باعث ملتوی کر دیا گیا۔

بھارتی عدالت نے سمجھوتہ ایکسپریس کیس کا فیصلہ 14 مارچ تک مؤخر کردیا

بھارتی تحقیقاتی ادارے نے مقدمے میں سوامی اسیم آنند سمیت 8 انتہا پسندوں کو موردِ الزام ٹھہرایا ہے۔

2007 میں ہریانہ کے ضلع پانی پت میں سمجھوتا ایکسپریس میں دھماکا کیا گیا تھا، جس میں 16 بچوں سمیت 68 افراد ہلاک ہوئے تھے جن میں سے اکثریت پاکستانیوں کی تھی۔

اس واقعے کے بارے میں بعدازاں کہا گیا کہ ٹرین میں ہندو انتہا پسندوں نے جان بوجھ کر خود آگ لگائی۔

جون 2011 میں تحقیقاتی ایجنسی کی جانب سے چارج شیٹ پیش کی گئی جس میں کہا گیا کہ ٹرین میں دھماکے کا مقصد پاکستانی مسلمانوں کو نشانہ بنانا تھا۔

ہندو انتہا پسند تنظیم سے تعلق رکھنے والے سوامی اسیم آنند، لوکیش شرما، سنیل جوشی، سندیپ ڈینگی اور راماچندرا کلاسنگرا کو مرکزی ملزم قرار دیا گیا تھا۔

سمجھوتہ ایکسپریس دھماکے کے مرکزی ملزم سوامی اسیم آنند ضمانت پر رہا ہیں۔



آپ کیلئے تجویز کردہ خبریں‎‎

مقبول ٹیگ‎‎‎