بھارتی کرکٹر محمد شامی کےخلاف تشدد، جنسی ہراساں کرنے کا مقدمہ درج

پولیس نے بھارتی ٹیم کے فاسٹ باؤلر محمد شامی کے خلاف تشدد سمیت جنسی طورپر ہراساں کرنے کا مقدمہ درج کرلیا۔


خبررساں ادارے اے ایف پی کے مطابق محمد شامی کے اہلیہ حسین جہان نے الزام عائد کیا کہ ان کے شوہر جسمانی و جنسی تشدد سمیت دیگر جرائم میں بھی ملوث ہیں۔

واضح رہے کہ مارچ 2018 میں محمد شامی اور ان کی اہلیہ کے مابین تنازع سامنے آیا جس میں شریک حیات نے سنگین الزامات لگائے تھے۔

دوسری جانب انگلینڈ اور ویلز میں کھیلے جانے والے کرکٹ ورلڈ کپ میں محمد شامی بھارت بالروں کی رہنمائی کریں گے۔

خیال رہے کہ محمد شامی کی اہلیہ سابق ماڈل ہیں اور انہوں نے عوامی سطح پر الزام لگایا تھا کہ محمد شامی کے متعدد لڑکیوں کے ساتھ تعلقات ہیں۔

کلکلتہ میں پبلک پراسیکیوٹر ڈیپ نارائن پارکاشی نے بتایا کہ ’محمد شامی کے خلاف انڈین پینل کوڈ کی شق 498 اے (ذہنی، جسمانی تشدد اور جہیز کے نام پر ہراساں کرنا) اور 354 اے (تشدد اور جنسی ہراساں) کے تحت چارج شیٹ درج کی جا چکی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ’اگر محمد شامی کے خلاف الزامات درست ثابت ہوئے توانہیں 5 برس قید کی سزا ہو سکتی ہے‘۔ دوسری جانب ان کی اہلیہ کی جانب سے عائد کردہ تمام الزامات کو محمد شامی مسترد کر چکے ہیں۔

اس حوالے سے بتایا گیا کہ بھارتی کرکٹ بورڈ نے محمد شامی کے ساتھ طے پانے والے معاہدہ کو تاحال حتمی شکل نہیں دی۔

خیال رہے کہ بھارتی کرکٹ بارڈ کی جانب سے حال میں محمد شامی کو تمام کرپشن الزامات میں بری قرار دیا گیا تھا جس کے بعد انہیں دنیا کے امیر ترین کرکٹ بورڈ کی جانب سے ازسر نو معاہدہ طے کرنے کی پیشکش کی تھی۔

محمد شامی آئی پی ایل میں دہلی ڈیئر ڈیولز کی نمائندگی کرتے ہیں اور موجودہ تنازع کے بعد فرنچائز نے انہیں نہ کھلانے کے حوالے سے سوچ بچار شروع کردی ہے۔

دہلی ڈیئر ڈیولز کے چیف ایگزیکٹو نے اپنے بیان میں کہا کہ شامی کی آئی پی ایل میں شرکت کے حوالے سے ہم نے بی سی سی آئی سے رابطہ کیا ہے اور وہ جو بھی ہدایات دیں گے اس کے بعد ہی ان کی لیگ میں شرکت کے بارے معلوم ہو گا۔



آپ کیلئے تجویز کردہ خبریں‎‎

مقبول ٹیگ‎‎‎