نیوزی لینڈ 2 مساجد پر فائرنگ 6 سے زائد افراد جاں بحق

نیوزی لینڈ کے شہر کرائسٹ چرچ میں دو مسجدوں میں فائرنگ سے کم از کم 6 افراد جاں بحق جبکہ 30 سے زائد زخمی ہوگئے۔


امریکی خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹس پریس ’اے پی‘ کی رپورٹ کے مطابق فائرنگ کا واقعہ دوپہر میں نماز جمعہ کے وقت پیش آیا۔

عینی شاہدیں کے مطابق حملہ آور 1:45 منٹ پر مسجد النور میں داخل ہوا جس کے بعد فائرنگ کی آواز سنی گئی۔

حملے کے بعد لوگ خوفزہ ہو کر مسجد نے باہر بھاگے، اس کے علاوہ ایک حملہ آور کو بھی ہتھیا پھینک کر بھاگتے ہوئے دیکھا گیا, فائرنگ کا دوسرا واقعہ لین ووڈ مسجد میں پیش آیا۔

فرانسیسی خبر رساں ادارے کے مطابق حملے کے وقت بنگلہ دیشی کرکٹ ٹیم بھی مسجد میں داخل ہونے والی تھی۔

حکام نے کرائسٹ چرچ میں 2 مساجد میں فائرنگ کا واقعہ پیش آنے کی تصدیق کردی جس کے بعد پولیس نے پورے علاقے کا کنٹرول سنبھال کر کرفیو نافذ کردیا۔

فائرنگ کی اطلاع ملتے ہی پولیس نے علاقہ اپنے گھیرے میں لے لیا اور مکینوں کو بھی گھروں سے نہ نکلنے کی ہدایت کی گئی ہے جبکہ کسی بھی مشتبہ سرگرمی کی اطلاع فوراً پولیس کو دینے کی بھی ہدایت کی گئی۔

اس حوالے سے پولیس حکام کا کہنا ہے کہ ایک حملہ آور کے تاحال متحرک ہونے کے باعث صورتحال سنگین ہوتی جارہی ہے تاہم اپنے بھرپور صلاحیت کے ساتھ صورتحال پر قابو پانے کی کوشش کررہی ہے ۔

اس بارے میں پولیس کمشنر مائیک بش نے بتایا کہ فائرنگ کے واقعے کے بعد حالات کے پیشِ نظر شہر کے تمام اسکولوں کو بند کردیا گیا ہے۔

وقوعہ کے عینی شاہد نے نیوزی لینڈ ریڈیو کو واقعے کی تفصیلات فراہم کرتے ہوئے بتایا کہ ’انہوں نے فائرنگ کی آوازیں سنیں جس کے نتیجے میں 4 افراد زمین پر گرے ہوئے تھے جبکہ ہر طرف خون پھیلا ہوا تھا۔

حکام کے مطابق بنگلہ دیشی کرکٹ ٹیم مسجد میں فائرنگ سے محفوظ رہتے ہوئے بچ نکلنے میں کامیاب ہوگئی تھی۔

بنگلہ دیشی کرکٹ بورڈ کے ترجمان نے بھی اس بات کی تصدیق کی کہ ٹیم کے کئی ارکان مسجد پہنچ کر اندر داخل ہونے ہی والے تھے کہ فائرنگ کی آواز سن کر نیچے جھک گئے تھے۔

ان کا کہنا تھا کہ ٹیم کے سبھی اراکین محفوظ ہیں تاہم ابھی شدید صدمے کا شکار ہیں جنہیں ہوتل میں ہی رہنے کی ہدایت کی گئی ہے۔

مقامی میڈیا کے مطابق حملے میں متعدد ہلاکتوں کا خدشہ ہے تاہم حکام کی جانب سے ابھی تک ہلاکتوں اور زخمیوں کی تصدیق نہیں کی گئی۔



آپ کیلئے تجویز کردہ خبریں‎‎

مقبول ٹیگ‎‎‎