نیوزی لینڈ کے شہر کرائسٹچرچ میں مسجد پر فائرنگ، حملہ آور کی تلاش جاری

نیوزی لینڈ کے شہر کرائسٹچرچ میں ایک مسجد پر فائرنگ کرنے والے حملہ آور کی تلاش جاری ہے۔


موقعے پر موجود عینی شاہدین نے مقامی میڈیا کو بتایا کہ فائرنگ میں متعدد لوگ زخمی ہوئے ہیں۔

پولیس نے لوگوں کو خبردار کیا ہے کہ جائے وقوعہ کہ قریبی علاقوں سے دور رہیں، جبکہ اردگرد کے تمام سکول اور ہسپتال بند کر دیے گئے ہیں۔

عینی شاہدین نے بتایا کہ وہ حملہ آور سے اپنی جان بچا کر بھاگے۔

ایک غیر مصدقہ ویڈیو بھی منظر عام پر آئی ہے جو مبینہ طور پر حملہ آور کی بنائی ہوئی ہے۔ اس میں اسے لوگوں پر فائرنگ کرتے دیکھا جا سکتا ہے۔

موہن ابراہیم حملے کے دوران اسی علاقے میں تھے۔ انھوں نے نیوزیلینڈ ہیرلڈ کو بتایا ’پہلے ہمیں لگا کہکوئی بجلی کا جھٹکا ہے، لیکن پھر سب لوگ بھاگنے لگے۔'

'میرے دوست ابھی تک اندر ہیں'

'میں اپنے دوستوں سے فون پر رابطہ کرنے کی کوشش کر رہا ہوں لیکن ابھی بھی بہت سوں سے رابطہ نہیں ہوا۔ میں ان کے لیے بہت فکر مند ہوں۔'

ابھی تک واقعہ کی تفصیلات واضح نہیں ہیں اور زیادہ تر معلومات مقامی میڈیا سے موصول ہو رہی ہیں، جو واقعے کے عینی شاہدین سے بات کر رہے ہیں۔

کرائسٹچرچ کی مسجد النور میں موجود عینی شاہدین نے بتایا کہ انھوں نے مسجد کی عمارت کے باہر زخمی لوگوں کو زمین پر لیٹا دیکھا ہے، لیکن پولیس یا مقامی انتظامیہ نے اس خبر کی ابھی تک تصدیق نہیں کی۔

اطلاعات آ رہی ہیں کہ لِن وڈ کے مضافاتی علاقوں میں موجود دوسری مساجد کو بھی خالی کرا لیا گیا ہے۔

نیوزی لینڈ کی خبررساں ویب سائیٹ Stuff.nz کے مطابق ایک حکومتی ترجمان کا کہنا ہے کہ کینٹربری ڈسٹرکٹ ہیلتھ بورڈ بڑے پیمانے پر جانی نقصان سے نمٹنے کا پلان عمل میں لا چکا ہے۔

زخمیوں کے لیے ایمرجنسی روم میں جگہ بنانا اس پلان میں شامل ہے۔ تاہم ترجمان نے زخمیوں کی ممکنہ تعداد کے بارے میں کچھ نہیں بتایا۔

پولیس نے نذدیکی کیتھیڈرل سکوائر بھی خالی کروا لیا ہے، جہاں پر ہزاروں بچے موسمیاتی تبدیلی کے سلسلے میں ریلی نکال رہے تھے۔

پولیس کمشنر مائیک بُش کا کہنا ہے ’اس وقت کرائیسٹچرچ میں ایک حملہ آور موجود ہے جس کی وجہ سے حالات سنگین ہیں اور ان میں تبدیلی آ رہی ہے۔‘

’پولیس حالات سے نمٹنے کے لیے اپنی پوری صلاحیت کے ساتھ جوابی کارروائی کر رہی ہے، لیکن خدشات اب بھی بہت زیادہ ہے۔‘

پولیس نے ہدایات دی ہیں کہ کرائیسٹچرچ کے رہائشی تا حکم ثانی اپنے اپنے گھروں کے اندر رہیں اور باہر نکلنے سے گریز کریں۔ اسی طرح شہر کے سکول بھی بند کر دیے گئے ہیں۔

عینی شاہدین نے کچھ لوگوں کے زخمی ہونے کی اطلاعات دی ہیں۔

نیوزی لینڈ کے دورہ پر آئی بنگلہ دیش کرکٹ ٹیم کے کھلاڑی تمیم اقبال نے ایک ٹویٹ میں بتایا کہ پوری ٹیم جان بچا کر نکلنے میں کامیاب ہوگئی۔

ٹیم کی کورریج کرنے والے ایک رپورٹر نے ٹوئیٹ کی کہ ٹیم کے ممبران ’ہیگلی پارک کے قریب واقع اس مسجد سے بچ کر نکلے ہیں جہاں پر حملہ آور موجود ہیں۔‘

Bangladesh Cricket Board spokesman Jalal Yunus said most of the team had gone to mosque by bus and were about to go inside when the incident took place.

"They are safe. But they are mentally shocked. We have asked the team to stay confined in the hotel," he told the AFP news agency.



آپ کیلئے تجویز کردہ خبریں‎‎

مقبول ٹیگ‎‎‎