نیوزی لینڈ: 2 مساجد پر فائرنگ، جاں بحق افراد کی تعداد 9 ہو گئی

نیوزی لینڈ کے شہر کرائسٹ چرچ کی 2 مساجد میں نماز جمعہ میں مسلح افراد کی فائرنگ کے نتیجے میں 9 افراد جاں بحق جبکہ متعدد زخمی ہوگئے، ایک حملہ آور کو گرفتار کر لیا گیا۔


ذرائع کے مطابق فائرنگ کے واقعات کرائسٹ چرچ میں واقع مسجدِ نور اور مسجد لنٹن میں پیش آئے، جس میں مسلح افراد نے مساجد میں داخل ہو کر خودکار ہتھیاروں سے نمازیوں پر فائرنگ شروع کر دی۔

حملہ آور نے شناخت بتادی

مقامی میڈیاکا کہنا ہے کہ مسجد میں ایک مسلح شخص داخل ہوا جس نے مشین گن سے فائرنگ کی، حملہ آور نےپنڈلیوں میں گولیوں سے بھرے میگزین باندھے ہوئے تھے۔

مقامی میڈیا نے بتایا ہے کہ ملزم نے اپنی شناخت آسٹریلوی شہری برینٹن ٹیرینٹ کے نام سے کی ہے،حملہ آور وردی میں ملبوس تھا،جس کی عمر 30 سے 40 سال تھی۔

مقامی میڈیا کا کہنا ہے کہ حملہ آور جدید ہتھیاروں سے لیس اور پیٹرول بموں سے بھری گاڑی کیساتھ پہنچا تھا،جو ہیلمٹ میں لگے کیمرے سے واردات کی ویڈیو لائیو اسٹریمنگ کرتارہا۔

مقامی میڈیا نے مزید بتایا ہےکہ مسلح شخص نے مسجد میں داخل ہوتے ہی اندھا دھند فائرنگ کی، اس نے کئی بار گن کو ری لوڈ کیا اور مختلف کمروں میں جا کر فائرنگ کی۔

مقامی میڈیانے یہ بھی کہا کہ 3 منٹ تک مسجد میں فائرنگ کرنے کے بعد حملہ آور مرکزی دروازے سے باہر نکلا،جہاں اس نے گاڑیوں پر بھی فائرنگ شروع کر دی۔

پاکستانی ہائی کمیشن کا بیان

نیوزی لینڈ میں پاکستانی ہائی کمیشن کے مطابق کرائسٹ چرچ کی مسجد نور اور مسجد لنٹن میں فائرنگ کے واقعے میں کسی پاکستانی کے زخمی ہونے کی اطلاع نہیں ہے۔

بنگلا دیشی کرکٹ ٹیم محفوظ رہی

نیوزی لینڈ کے دورے پر آئی ہوئی بنگلا دیش کی کرکٹ ٹیم فائرنگ کی زد میں آنے سے بال بال بچ گئی ہے، جس کے کھلاڑی فائرنگ کے وقت نماز جمعہ ادا کرنے کے لیے مسجد آئے ہوئے تھے۔

پریس کانفرنس کرتے ہوئے بنگلا دیش کرکٹ ٹیم کے کپتان تمیم اقبال نے کہا کہ بنگلا دیشی کرکٹ ٹیم کے تمام کھلاڑی اس واقعے میں محفوظ رہے۔

بنگلا دیشی کرکٹر مشفق الرحیم نے اس موقع پر کہا کہ مسجد میں بنگلا دیشی ٹیم بھی موجود تھی جو اس واقعے میں محفوظ رہی۔

انہوں نے کہا کہ ہم بہت خوش قسمت رہے کہ فائرنگ کے اس واقعے میں اللہ تعالیٰ نے ہمیں محفوظ رکھا، ہم کبھی نہیں چاہیں گے کہ ایسا دوبارہ ہو۔

’’یہ سیاہ ترین دن ہے‘‘: وزیر اعظم نیوزی لینڈ

ادھر نیوزی لینڈ کی وزیر اعظم جیکینڈا آرڈرن نے واقعے کے حوالے سے پریس کانفرنس کرتے ہوئے اسے نیوزی لینڈ کی تاریخ کا سیاہ ترین دن قرار دیا ہے۔

نیوزی لینڈ کرکٹ بورڈ کا ردعمل

واقعے کے حوالے سے نیوزی لینڈ کرکٹ بورڈ نے بیان جاری کیا ہے جس میں کہا ہے کہ دونوں ملکوں نیوزی لینڈ اور بنگلا دیش کے کھلاڑی محفوظ ہیں۔

نیوزی لینڈ کرکٹ بورڈ نے یہ بھی کہا ہے کہ اگلے لائحہ عمل کے لیے اتھارٹیز کے ساتھ کام رہے ہیں ،کل سے شروع ہونے والے ٹیسٹ میچ کے حوالے سے اقدامات پر بات چیت جاری ہے۔



آپ کیلئے تجویز کردہ خبریں‎‎

مقبول ٹیگ‎‎‎