کوہستان ویڈیو اسکینڈل: ملزمان کے خلاف جوڈیشل کمیشن بنانے کی تجویز

اسلام آباد: سول سوسائٹی کے انسانی حقوق کے کارکنوں اور رضاکاروں نے 2012 کے کوہستان ویڈیو اسکینڈل کی جوڈیشل انکوائری کی تجویز پیش کی ہے جہاں اس واقعے میں پانچ لڑکیوں سمیت 8افراد ہلاک ہو گئے تھے۔


نیشنل کمیشن فار ہیومن رائیٹس کے جمعرات کو منعقدہ اجلاس میں اگلی سماعت پر کوہستان اور ایبٹ آباد کی مقامی انتظامیہ کو بلانے کا فیصلہ کیا گیا۔

یہ کیس اس وقت منظر عام پر آیا تھا جب دو نوجوان لڑکوں کی لڑکیوں کے سامنے ڈانس کرنے کی ویڈیو آن لائن سامنے آئی تھی جس کے نتیجے میں 8افراد کو قتل کردیا گیا تھا۔

ویڈیو کلپ میں پانچ لڑکیوں اور ایک مرد کو ڈانس کرتے ہوئے دیکھا جا سکتا تھا جس پر جرگہ کے حکم پر ان کے دو بھائیوں نے ان کا قتل کردیا تھا۔

البتہ حقائق کی کھوج کے لیے قائم مشن اس بات کے ٹھوس ثبوت ڈھونڈنے میں ناکام رہا تھا کہ قتل ہوا ہے یا نہیں لیکن حالات و واقعات اس بات کی طرف واضح اشارہ کرتے تھے کہ قتل کی واردات ہوئی ہے۔

نیشنل کمیشن فار ہیومن رائٹس نے کہا کہ اس نے حال ہی میں قتل کیے گئے محمد افضل کوہستانی کی رپورٹ ڈی پی او اور ڈی سی او ایبٹ آباد سے طلب کی تھی۔

افضل کوہستانی اس ویڈیو اسکینڈل کو منظر عام پر لانے والے ان چند لڑکوں میں سے ایک کا بھائی تھا۔

اجلاس میں یہ تجویز بھی پیش کی گئی کہ مقدمے کی بہتر طریقے سے پیشرفت کے لیے حکومت خود اس میں فریق بنے۔

اجلاس میں یہ فیصلہ بھی کیا گیا کہ نیشنل کمیشن فار ہیومن رائٹس سول سوسائٹی کے ہمراہ پشاور ہائی کورٹ کے ہیومن رائٹس سیل کو درخواست لکھ کر ان سے معاملہ اٹھانے اور اس میں فریق بننے کی استدعا کرے گی۔

اس موقع پر کمیشن کے رکن چوہدری شفیق نے تجویز پیش کی کہ وزیر اعظم کو خط لکھ کر ان کے سامنے بھی معاملہ اٹھایا جائے گا کیونکہ یہ کیس 2012 سے تعطل کا شکار ہے اور یہ اب تک متعدد معصوم لوگوں کی جان لے چکا ہے۔

کمیشن نے اجلاس کو بتایا کہ وہ سوشل ویلفیئر آرگنائزیشن سے کہیں گے کہ وہ متاثرہ خاندانوں کی کی مدد کریں اور ان کی معاشی حالت سدھارنے کی کوشش کریں کیونکہ ان کا کوئی ذرائع آمدن نہیں۔

اجلاس کے شرکا نے غیرت کے نام پر قتل کے واقعات تواتر کے ساتھ رپورٹ ہونے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس طرح کے واقعات کو روکنے کی ضرورت ہے۔

محمد افضل کوہستانی وہ پہلے فرد تھے جو جرگہ سسٹم، 2012 میں پانچ لڑکیوں کے غیرت کے نام پر قتل کی حقیقت دنیا کے سامنے لے کر آئے تھے اور ویڈیو اسکینڈل نے ملک بھر میں توجہ حاصل کی تھی۔

انہوں نے کہا تھا کہ ویڈیو میں نظر آنے والی لڑکیوں کو ان کے اہلخانہ نے قتل کردیا تھا اور ان کے دو چھوٹے بھائیوں، جن میں سے ایک کو ویڈیو ڈانس کرتے دیکھا گیا کی جانوں کو خطرات لاحق ہیں ، بعدازاں ان کے دونوں بھائیوں کو بھی قتل کر دیا گیا۔

اجلاس کے شرکا نے مقدمے کی پیشرفت پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اگر ابتدا سے ہی اس مقدمے سے صحیح طریقے سے نمٹا جاتا تو بہت سے لوگوں کی جانیں بچائی جا سکتی تھیں۔

اجلاس کے دوران انسانی حقوق کی سرگرم کارکن فرزانہ باری نے کہا کہ اس سلسلے میں سول سوسائٹی نے مایوس کن کردار ادا کیا۔

اس معاملے پر اظہار خیال کرتے ہوئے انہوں نے مزید کہا کہ لڑکیوں کے قتل کا جرم قبول کرنے کے بعد ابتدائی طور پر ایف آئی آر میں 8افراد کو نامزد کیا گیا تھا اور گزشتہ دو کمیشنز کی جانب سے انصاف کی فراہمی میں ناکامی پر انہیں تنقید کا نشانہ بنایا۔



آپ کیلئے تجویز کردہ خبریں‎‎

مقبول ٹیگ‎‎‎