الیکشن کمیشن میں اراکین کی تقرری،حکومت اور اپوزیشن میں ڈیڈ لاک برقرار

الیکشن کمیشن اراکین کی تقرری پر حکومت اور اپوزیشن میں ڈیڈ لاک برقرار ہے۔


الیکشن کمیشن میں اہم عہدے داروں کی تقرری کی ڈیڈ لائن گزر گئی ہے لیکن تاحال ڈیڈ لاک برقرار ہے۔ نئےاراکین کےانتخاب کے لیے وزیراعظم اور اپوزیشن لیڈرمیں مشاورت نہ ہو سکی۔ آئین کےآرٹیکل 213 کے تحت وزیر اعظم اور اپوزیشن لیڈر میں مشاورت لازم ہے، آئین کے آرٹیکل 215 کی شق چار کے تحت الیکشن کمیشن ممبر کی خالی اسامی 45 دن میں مکمل کرنا لازمی تھا۔

مشاورت کے بغیر نام پارلیمانی کمیٹی کو بھجوائے جانے پر اپوزیشن نے شدید احتجاج کیا ہے۔

پیپلزپارٹی کے رہنما خورشید شاہ نے کہا ہےکہ حکومت کیطرف سےبغیرمشاورت کمیٹی کو3،3 نام بھجوانا غیرآئینی ہے، عمران خان آئین سے بالاتر نہیں،مشاورت کرنا پڑے گی، حکومت غیرآئینی کام کرے گی توعدالت میں چیلنج ہو جائےگا، آئین پرعملدرآمد نہ ہونے کا ذمہ دار وزیراعظم ہے۔

مسلم لیگی رہنما رانا ثناء اللہ نے کہا ہے کہ حکومت غیرآئینی کام کررہی ہے، اس عمل کا حصہ نہیں بنیں گے، حکومت نے اپوزیشن لیڈر سے کسی نام پر مشاورت ہی نہیں کی۔

واضح رہے کہ سندھ اور بلوچستان سے الیکشن کمیشن اراکین 26 جنوری کوعہدے کی مدت مکمل ہونے پر سبکدوش ہوچکے ہیں۔



آپ کیلئے تجویز کردہ خبریں‎‎

مقبول ٹیگ‎‎‎