نیوزی لینڈ: 2 مساجد پر فائرنگ، جاں بحق افراد کی تعداد 40 ہو گئی

نیوزی لینڈ میں تاریخ کی بدترین دہشت گردی کا واقعہ پیش آیا ہے، کرائسٹ چرچ کی 2 مساجد پردہشت گرد حملے کے نتیجے میں 40افراد جاں بحق ہوگئے جبکہ 20 شدید زخمی ہوئے ہیں۔


ذرائع کے مطابق فائرنگ کے واقعات کرائسٹ چرچ میں واقع مسجدِ نور اور مسجد لنٹن میں پیش آئے، جس میں مسلح افراد نے مساجد میں داخل ہو کر خودکار ہتھیاروں سے نمازیوں پر فائرنگ شروع کر دی۔

بنگلا دیش کی کرکٹ ٹیم واقعے میں بال بال بچ گئی، نماز پڑھنے آئے ہوئے بنگلا دیشی کھلاڑیوں نے بھاگ کر جان بچائی۔

جدید ہتھیاروں اور بموں سے لیس حملہ آوروں نے نماز جمعہ کے بعد نمازیوں پر فائر کھول دیئے، فائرنگ سے 40 افراد جاں بحق اور 20 شدید زخمی ہو گئے۔

خاتون سمیت 4 افراد زیر حراست

پولیس حکام کے مطابق واقعے کے بعد خاتون سمیت 4 افراد کو حراست میں لے لیا گیا ہے، جبکہ مسجد کے قریب گاڑیوں میں نصب بارودی ڈیوائسزبھی ملی ہیں۔

مقامی میڈیا کے مطابق حملہ آور اسلام مخالف اور امیگرنٹس کے خلاف تعصب پر مبنی پیغام چھوڑ کر فرار ہو گئے۔

حملہ آور نے شناخت بتادی

مقامی میڈیاکا کہنا ہے کہ مسجد میں ایک مسلح شخص داخل ہوا جس نے مشین گن سے فائرنگ کی، حملہ آور نےپنڈلیوں میں گولیوں سے بھرے میگزین باندھے ہوئے تھے۔

مقامی میڈیا نے بتایا ہے کہ ملزم نے اپنی شناخت آسٹریلوی شہری برینٹن ٹیرینٹ کے نام سے کی ہے،حملہ آور وردی میں ملبوس تھا،جس کی عمر 30 سے 40 سال تھی۔

مقامی میڈیا کا کہنا ہے کہ حملہ آور جدید ہتھیاروں سے لیس اور پیٹرول بموں سے بھری گاڑی کیساتھ پہنچا تھا،جو ہیلمٹ میں لگے کیمرے سے واردات کی ویڈیو لائیو اسٹریمنگ کرتارہا۔

مقامی میڈیا نے مزید بتایا ہےکہ مسلح شخص نے مسجد میں داخل ہوتے ہی اندھا دھند فائرنگ کی، اس نے کئی بار گن کو ری لوڈ کیا اور مختلف کمروں میں جا کر فائرنگ کی۔

مقامی میڈیانے یہ بھی کہا کہ 3 منٹ تک مسجد میں فائرنگ کرنے کے بعد حملہ آور مرکزی دروازے سے باہر نکلا،جہاں اس نے گاڑیوں پر بھی فائرنگ شروع کر دی۔

پاکستانی ہائی کمیشن کا بیان

نیوزی لینڈ میں پاکستانی ہائی کمیشن کے مطابق کرائسٹ چرچ کی مسجد نور اور مسجد لنٹن میں فائرنگ کے واقعے میں کسی پاکستانی کے زخمی ہونے کی اطلاع نہیں ہے۔

بنگلا دیشی کرکٹ ٹیم محفوظ رہی

نیوزی لینڈ کے دورے پر آئی ہوئی بنگلا دیش کی کرکٹ ٹیم فائرنگ کی زد میں آنے سے بال بال بچ گئی ہے، جس کے کھلاڑی فائرنگ کے وقت نماز جمعہ ادا کرنے کے لیے مسجد آئے ہوئے تھے۔

پریس کانفرنس کرتے ہوئے بنگلا دیش کرکٹ ٹیم کے کپتان تمیم اقبال نے کہا کہ بنگلا دیشی کرکٹ ٹیم کے تمام کھلاڑی اس واقعے میں محفوظ رہے۔

بنگلا دیشی کرکٹر مشفق الرحیم نے اس موقع پر کہا کہ مسجد میں بنگلا دیشی ٹیم بھی موجود تھی جو اس واقعے میں محفوظ رہی۔

انہوں نے کہا کہ ہم بہت خوش قسمت رہے کہ فائرنگ کے اس واقعے میں اللہ تعالیٰ نے ہمیں محفوظ رکھا، ہم کبھی نہیں چاہیں گے کہ ایسا دوبارہ ہو۔

فائرنگ کے واقعے کے بعد نیوزی لینڈ اور بنگلادیش کے درمیان کل سے کرائسٹ چرچ میں کھیلا جانے والا تیسرا ٹیسٹ منسوخ کر دیا گیا ہے جس کے بعد بنگلا دیش ٹیم نے دورۂ نیوزی لینڈ ختم کرتے ہوئے واپسی کے انتظامات شروع کردیے ہیں۔

’’یہ سیاہ ترین دن ہے‘‘: وزیر اعظم نیوزی لینڈ

ادھر نیوزی لینڈ کی وزیر اعظم جیکینڈا آرڈرن نے واقعے کی مذمت کرتے ہوئے اسے ملکی تاریخ کا سیاہ ترین دن قرار دے دیا، انہوں نے کہا کہ مسجد میں فائرنگ دہشت گردی ہے۔

نیوزی لینڈ کرکٹ بورڈ کا ردعمل

واقعے کے حوالے سے نیوزی لینڈ کرکٹ بورڈ نے بیان جاری کیا ہے جس میں کہا ہے کہ دونوں ملکوں نیوزی لینڈ اور بنگلا دیش کے کھلاڑی محفوظ ہیں۔

نیوزی لینڈ کرکٹ بورڈ نے یہ بھی کہا ہے کہ اگلے لائحہ عمل کے لیے اتھارٹیز کے ساتھ کام رہے ہیں ،کل سے شروع ہونے والے ٹیسٹ میچ کے حوالے سے اقدامات پر بات چیت جاری ہے۔



آپ کیلئے تجویز کردہ خبریں‎‎

مقبول ٹیگ‎‎‎