اسمارٹ ڈیوائسز کے ڈیٹا تک کمپنیوں کی رسائی، 83 فیصد طلبا لاعلم

اسلام آباد: ایک حالیہ سروے میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ جامعات کے 83 فیصد طلبا اس بات سے بے خبر ہیں کہ سروس فراہم کرنے والے اور سافٹ ویئر کمپنیز کی اسمارٹ ڈیوائسز کے ڈیٹا تک رسائی ہوتی ہے اور انہیں اسے تھرڈ پارٹی (تیسرے فریق) کو شیئر کرنے کی اجازت ہوتی ہے۔


ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق طلبا اس بات سے بھی بے خبر ہوتے ہیں کہ موبائل فون، ٹیلی ویژن اور پہنے والے آلات کے ذریعے حاصل کئے گئے ڈیٹا کو غلط استعمال اور ہیک کیا جاسکتا ہے۔

اس سروے کو عالمی صارفین کے دن کی مناسبت سے کنزیومر پروٹیکشن نیٹ ورک کی جانب سے کیا گیا، جس میں 500 طلبا کو آزمائشی طور پر شامل کیا گیا۔

نیٹ ورک کے سی ای او ندیم اقبال نے ڈان کو بتایا کہ پاکستان میں 15 کروڑ اسمارٹ فونز استعمال ہوتے ہیں، جس میں سے 70 فیصد لوگوں کی عمر 21 سے 30 کے درمیان ہے جو انہیں استعمال کرتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ 'ہم نے طلبا سے پوچھا کہ وہ اس بات سے باخبر ہیں کہ ان کی ڈیوائس پر موجود ڈیٹا تک سروس فراہم کنند کی رسائی ممکن ہے کیونکہ جب وہ سافٹ ویئر ڈاؤن لوڈ کرتے ہیں تو صارف ایک عدم اعتراض کے لیٹر پر دستخط کرتا ہے، جس کے تحت ڈیٹا تک رسائی اور اسے تیسرے فریق کو شیئر کیا جاسکتا ہے'۔

انہوں نے کہا کہ 83 فیصد طلبا کو اس بارے میں علم ہی نہیں تھا کہ ان کے ڈیٹا تک رسائی حاصل ہے اور انہوں نے سروس فراہم کنندہ کے ساتھ ڈیٹا تک رسائی کا معاہدہ کیا ہوا ہے۔

ندیم اقبال کا کہنا تھا کہ 'یہ حقیقت ہے کہ کھلونے، نبض کی شرح، ذبابیطس، قلب کی شرح کو دیکھنے والے مانیٹر سمیت اسمارٹ ڈیوائسز نہ صرف ڈیٹا حاصل کرتی ہیں بلکہ اسے تیسرے فریق سے شیئر بھی کرتی ہیں'۔

انہوں نے بتایا کہ حاصل کیا گیا ڈیٹا ہیک بھی ہوسکتا ہے اور اس کی مثال وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) کو موصول ہونے والی شکایت تھی جس میں ایک ہزار سے زائد افراد کا بینک ڈیٹا ہیک ہونے کا الزام لگایا گیا تھا۔

سی ای او کا مزید کہنا تھا کہ 'ہم یہ کہتے ہیں کہ اسمارٹ ڈیوائسز ضروری ہیں لیکن یہ قابل بھروسہ نہیں، صارفین کے لیے ضروری ہے کہ وہ اس بات کو یقینی بنائیں کہ ان کا ڈیٹا ہیک نہ ہو اور وہ اس کے لیے سیکیورٹی اقدامات کریں، اس سلسلے میں ہم نے پاکستان ٹیلی کمیونکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) کو ایک خط بھی لکھا ہے کہ وہ اس معاملے کو دیکھیں'۔

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان ان 5 ممالک میں سے ایک ہے جہاں اسمارٹ ڈیوائسز کی تعداد تیزی سے بڑھ رہی ہے، لہٰذا حکومت کو صارفین کے حقوق کے لیے ایک پالیسی بنانی چاہیے۔

ایک بیان کے مطابق 2025 تک 72 فیصد انٹرنیٹ صارفین موبائل فون کے ذریعے انٹرنیٹ تک رسائی حاصل کریں گے، جن میں سے نصف نئے صارفین چین، بھارت، انڈونیشیا، نائجیریا اور پاکستان سے ہوں گے۔



آپ کیلئے تجویز کردہ خبریں‎‎

مقبول ٹیگ‎‎‎