دنیا بھر میں مساجد پر ہونے والے حملوں پر ایک نظر

اگرچہ جنگ زدہ اسلامی ممالک میں ان سے زیادہ خطرناک حملے بھی مساجد میں ہو چکے ہیں، تاہم یورپ، امریکا اور دیگر غیر مسلم ممالک میں واضح طور پر دہشت گردی کا یہ واقعہ اب تک کا مساجد پر ہونے والا سب سے بڑا حملہ مانا جا رہا ہے۔


نیوزی لینڈ پولیس کے مطابق کرائسٹ چرچ کے علاقے ڈینز ایونیو میں واقع مسجد اور لین ووڈ مسجد میں مجموعی طور پر 49 افراد جاں بحق اور 39 افراد زخمی ہوئے۔

پولیس کے مطابق یہ حملہ اس وقت کیا گیا جب مساجد میں نماز جمعہ کی تیاریاں کی جا رہی تھیں۔

اگرچہ نیوزی لینڈ میں پہلے بھی دہشت گردی کے واقعات پیش آ چکے ہیں، تاہم مساجد پر دہشت گردی کا کوئی واقعہ پیش نہیں آیا۔

اس ہولناک واقعے کے بعد دنیا بھر کے مسلمانوں میں شدید تشویش پائی جاتی ہے اور سوشل میڈیا سمیت مختلف فورمز پر سوال اٹھائے جارہے ہیں کہ مسلمانوں کے خلاف ہونے والے دہشت گردی کے واقعوں کی کھل کر مذمت کیوں نہیں کی جاتی اور مسلمانوں کے خلاف دہشت گردی کو روکنے کے اقدامات کیوں نہیں اٹھائے جاتے۔

نیوزی لینڈ میں ہونے والے اس حالیہ حملے کے بعد اگرچہ کئی ممالک میں سیکیورٹی کے انتظامات سخت کیے گئے ہیں، تاہم مسلمانوں میں خوف کی فضا برقرار ہے۔

اس حملے سے قبل جہاں نیوزی لینڈ میں بھی دہشت گردی کے واقعات پیش آ چکے ہیں، وہیں نیوزی لینڈ کے پڑوسی ملک آسٹریلیا میں بھی متعدد مساجد پر حملوں کے واقعات پیش آ چکے ہیں۔

اگرچہ آسٹریلیا کو پرامن اور مذہبی ہم آہنگی کو فروغ دینے والے ممالک کے طور پر دیکھا جاتا ہے، تاہم وہاں بھی مسلمانوں اور مساجد کے خلاف نفرت کے واقعات پیش آتے رہتے ہیں۔

جرمنی اور فرانس کی طرح آسٹریلیا میں بھی زیادہ تر مسلم خواتین پر ان کے مکمل لباس کی وجہ سے حملے کیے جاتے ہیں۔

یورپ کے اہم ترین ملک جرمنی کا شمار دنیا کے ان ممالک میں ہوتا ہے، جہاں مساجد کو سب سے زیادہ نشانہ بنایا جاتا ہے۔

جرمنی بھر میں 2017 میں مسلمانوں کے خلاف 950 جرائم کے واقعات ریکارڈ کیے گئے جب کہ اسی سال جرمنی کی 73 مساجد کو نشانہ بنایا گیا۔

برلن میں دہشت گردوں نے مسجد کو نظر آتش کردیا تھا، جس سے فوری طور پر کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔

اسی حملے سے 2 دن قبل بھی ایک مسجد کو آگ لگادی دی گئی تھی، حیرانی کی بات یہ ہے کہ جرمنی میں مساجد پر ان حملوں کو دہشت گردی قرار دیے جانے یا دہشت گردوں کو گرفتار کرنے کے بجائے ان حملوں کو اسلامی شدت پسندی سے جوڑا گیا۔

جرمن حکام کے مطابق ان حملوں میں ترکش نژاد مسلمان ملوث تھے اس لیے یہ حملے اسلامی انتہا پسندی کا نشانہ تھے اور ایسے حملوں کی روک تھام کے لیے دوسرے اقدامات کرنے کے بجائے مسلمانوں اور مساجد پر ہی شکوک کیے گئے۔

خوش قسمتی سے اس حملے سے بھی کوئی جانی نقصان نہیں ہوا، تاہم مسلمانوں میں خوف پھیل گیا، لیکن جرمن حکام نے مساجد اور مسلمانوں کی سیکیورٹی کے ٹھوس اقدامات کرنے کے بجائے انہیں ہی شدت پسند قرار دیا۔

برطانیہ کا شمار بھی یورپ کے ان ممالک میں ہوتا ہے جہاں پر مساجد اور مسلمانوں کو زیادہ تر نشانہ بنایا جاتا ہے۔

مساجد کو ایک ایسے وقت میں نشانہ بنایا گیا تھا جب کہ کچھ دن قبل ہی لندن میں دہشت گردی کے واقعہ ہوا تھا۔

رپورٹ کے مطابق 2013 میں برطانیہ بھر میں 43 مساجد، 2014 میں 21 مساجد، 2015 میں 24 مساجد، 2016 میں 46 جب کہ 2017 میں 34 مساجد کو نشانہ بنایا گیا اور مساجد پر حملوں کا سلسلہ 2018 اور 2019 میں بھی جاری رہا۔

امریکا میں بھی مساجد اور مسلمان محفوظ نہیں اور وہاں بھی اکثر اسلام یا مسلم مخالف واقعات ہوتے رہتے ہیں۔

مسجد پر بم حملہ کرنے والے ان دہشت گردوں نے تسلیم کیا کہ وہ مسلمانوں سے نفرت کرتے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق حالیہ چند سالوں میں امریکا کے دارالحکومت واشنگٹن، کیلی فورنیا، اوہائیو، ٹیکساس، فلوریڈا، ورجینیا، مشی گن، نیو جرسی اور میساچوٹس کا شمار امریکا کی ان ریاستوں میں ہوتا ہے جہاں مساجد کو سب سے زیادہ نشانہ بنایا گیا۔

ان ریاستوں میں گزشتہ 4 سے 5 سال میں 10 اور اس سے زیادہ مساجد کو نشانہ بنایا گیا۔

علاوہ ازیں رپورٹ میں برطانیہ سمیت یورپ کے دیگر ممالک میں مساجد کو نشانہ بنائے جانے کے اعداد و شمار بھی جاری کیے گئے۔

مشرقی یورپی ملک بلغاریہ کے شہر کولوو میں تاریخی مسجد پر حملہ کرکے اسے نذر آتش کردیا گیا تھا۔

اگرچہ اس حملے میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا تھا، تاہم مسلمانوں کے لیے مقدس ترین جگہ کی اہمیت رکھنے والے مقام کی بے حرمتی کیے جانے پر کوئی ٹھوس اقدامات نہیں کیے گئے۔

پولیس نے بتایا تھا کہ فوری طور پر حملہ آور کے حملہ کرنے کے مقاصد معلوم نہیں ہوسکے تاہم وہ نمازیوں پر حملہ کرکے انسانی جانیں لینا چاہتا تھا۔

اس حملے پر فرانس کے اعلیٰ عہدیداروں نے زیادہ تشویش کا اظہار نہیں کیا اور نہ ہی اسے مسلمانوں کے خلاف دہشت گردی قرار دیا گیا۔

فرانس نے حیران کن طور پر مساجد کی سیکیورٹی بہتر بنانے کے بجائے انہیں بند کرنا اور مسلمانوں کو اپنی مذہبی عبادات سے دور رکھنا ہی بہتر سمجھا۔

حکومت نے ان مساجد کو دہشت گردی کے پھیلاؤ اور ملک میں ہونے والے ممکنہ دہشت گردی کے پیش نظر بند کیا، حکام کے خیال کے مطابق ان مساجد سے ہی انتہاپسندی شروع ہوتی ہے۔

مساجد کو بند کرنا یا انہیں مذہبی عبادات کے لیے انتہائی کم وقت کے لیے کھولنا اور وہاں آنے والے مسلمانوں کو اپنی عبادات کرنے سے روکنے کا عمل فرانس تک محدود نہیں بلکہ مسلمانوں کے خلاف اس طرح کے اقدامات جرمنی سمیت دیگر کچھ یورپی ممالک میں بھی دیکھنے کو ملتے ہیں۔

امریکا میں بھی مساجد کی سیکیورٹی کے بہتر انتظامات کرنے کے بجائے انہیں بند کرنا ہی مناسب سمجھا جاتا ہے۔

حملے میں کم سے کم 6 افراد جاں بحق اور 18 زخمی ہوگئے تھے۔

اس حملے کو کینیڈین وزیر اعظم سمیت اعلیٰ حکام نے مسلمانوں کے خلاف دہشت گردی قرار دیا تھا۔



آپ کیلئے تجویز کردہ خبریں‎‎

مقبول ٹیگ‎‎‎