کیا اس ویڈیو میں پاکستانی لڑاکا طیارے اور پاکستانی ایئربیس ہے؟

کیا آپ کو معلوم ہے کہ سوشل میڈیا پر ایئر بیس پر کھڑے فائٹر طیاروں کی تصویر کس ملک کی ہے ؟ جی ہاں ایک نجی اردو ویب سائٹ کی جانب سے دعوی کرتے ہوئے دو بار اس خبر کو یہ کہہ کر شیئر کیا گیا کہ یہ کوئی امریکا، روس اور فرانس کی فضائیہ کا ایئربیس اور طیارے نہیں یہ پاک فضائیہ کا ایئربیس اور پی اے ایف کے لڑاکا طیارے ہیں، تاہم اس ویب سائٹ کا یہ دعوی جھوٹا نکلا۔


اس ویڈیو کو سال 2016 سے اب تک 3٫4 ملین لوگوں نے دیکھا ہے، جب کہ 264500 افراد اس کو 27 مئی سال 2016 سے اب تک شیئر کرچکے ہیں۔ اس ویڈیو کو فیس بک پر اب تک ملین افراد دیکھ چکے ہیں، جس میں قطار در قطار جدید لڑاکا طیاروں کو کھڑا دکھایا گیا ہے اور جس میں یہ دعوی بڑے وثوق کیساتھ کیا گیا ہے کہ یہ پاکستانی فضائیہ ہے، تاہم اس ویڈیو میں نظر آنے والے طیارے امریکی فضائیہ کی ہوائی بیڑے کا حصہ ہیں اور یہ کونسان ایئربیس ساوتھ کوریا ہے۔

ذیل میں اس اردو ویب سائٹ کے وہ اسکرین شارٹس پیش کیے گئے ہیں، جو سراسر غلط ہیں۔

اس ویڈیو کو بغیر تصدیق کے دیگر فیس بک اکاونٹس پر بھی شیئر کیا گیا ہے۔

وقت اور حالات کے تقاضے کے بعد اسی اردو ویب سائٹ کی جانب سے مارچ 2019 میں دوبارہ اس ویڈیو کو اس وقت شیئر کیا گیا جب بھارت کی جانب سے یہ کہا گیا کہ بھارتی فضائیہ نے پاکستان کے اندر گھس کر دہشت گردوں کے کیمپ تباہ کیے ہیں، تاہم بعد ازاں پاکستان کی جانب اڑنے والے بھارتی طیارے کو 27 فروری کو پاکستانی حدود میں مار کرایا گیا۔

غور سے دیکھا جائے تو آپ کو معلوم ہوگا کہ دراصل اس تصویر کے اندر خود اس کی اپنی شناخت چھپی ہے۔ ریورس امیج سے اس کی تصدیق کی جائے تو آپ کو بخوبی پتا چلے گا کہ یہ ویڈیو اصل میں یو ٹیوب چینل پر اپ لوڈ کی گئی تھی، جس کے 1٫6 ملین سے زیادہ فولوورز ہیں اور اس کا نام ایئرسورس ملٹری ہے، جو اپریل 19 سال 2013 میں بنی۔

اصل ویڈیو کو اپ لوڈ کرتے ہوئے اس کا نام "بڑے پیمانے پر یو ایس اے ایف ، ایف 16 ہاتھیوں کی کونسان ایئر بیس ساوتھ کوریا پر واک" کا نام دیا گیا تھا۔ ذیل میں ان تصویر کو ردوبدل کیساتھ ایسے پیش کیا گیا۔

سال 2013 میں یوٹیوب چینل کی جانب سے اپ لوڈ ویڈیو میں ایر سورس ویب سائٹ کا واٹر مارک موجود ہے۔ اس چینل کے انٹرو پر جائیں تو یہاں ان کا آفیشل ای میل ایڈریس بھی موجود ہے، جب کہ اس چینل پر یہ بھی درج ہے کہ یہ چینل امریکی آرمی، نیوی، مرین، کوسٹ گارڈز اور ایئرفورس کی اپ ڈیٹ دیتا ہے۔

اسی چینل پر یہ ویڈیو ہائی کوالٹی میں بھی موجود ہے، جس میں واٹر مارک واضح طور پر نظر آ رہا ہے۔

اس ویڈیو میں 8 فائٹر ونگ کے ایس ایس جی ٹی مائیکل شوکر کو ٹیگ کیا گیا ہے، جنہوں نے اس ویڈیو کو بنایا تھا۔ جو میڈیا ونگ سے وابستہ تھے اور اس وقت اسی ایر بیس ہر تعینات تھے۔ ویڈیو بنانے کے بعد مائیکل کی جانب سے اسے آفیشل ڈی وی ڈی ویب سائٹ پر شیئر بھی کیا گیا تھا۔

گوگل امیج سے بھی یہ بات واضح ہوتی ہے۔



آپ کیلئے تجویز کردہ خبریں‎‎

مقبول ٹیگ‎‎‎