فیس بک، ٹویٹر، یوٹیوب نے مساجد حملے کی ویڈیو ہٹانا شروع کردیں

نیوزی لینڈ کے شہر کرائسٹ چرچ پر حملے میں 49 افراد کو جاں بحق کرنے والے حملہ آور کی ویڈیو کو سماجی رابطوں کی ویب سائٹ سے ہٹایا جانے لگا۔


دنیا کی نامور سماجی رابطوں کی ویب سائٹ فیس بک اور ٹوئٹر پر سے حملہ آور کی جانب سے بنائی گئی فائرنگ کی ویڈیوز مبینہ طور پر ڈیلیٹ ہونے لگیں جبکہ ویڈیو شیئرنگ ویب سائٹ یوٹیوب نے بھی اس واقعے کی مختلف ویڈیو کو ہٹا دیا۔

خیال رہے کہ کرائسٹ چرچ کی 2 مساجد میں فائرنگ سے 49 افراد جاں بحق اور متعدد زخمی ہوگئے تھے، اس واقعے میں ملوث حملہ آوروں نے مساجد پہنچ کر گاڑی سے اترنے اور لوگوں پر فائرنگ کرنے کے پورے واقعے کی ویڈیو بنائی تھی۔

اس ویڈیو میں دیکھا جاسکتا تھا کہ ایک شخص 2 بندوقیں اٹھائے گاڑی سے اترتا ہے اور فائرنگ کرتے ہوئے مسجد میں داخل ہوتا ہے اور پھر وہاں موجود افراد کو بے دردی سے اندھا دھند فائرنگ کرکے جاں بحق کردیتا ہے۔

حملہ آور کی جانب سے نہ صرف اس ویڈیو کو ریکارڈ کیا گیا بلکہ برینٹن ٹیرنٹ کے نام سے موجود مبینہ حملہ آور کے اکاؤنٹ سے اسے فیس بک اور ٹویٹر پر لائیو (براہ راست) دکھایا گیا، جس کے بعد سوشل میڈیا پلیٹ فارمز نے اس اکاؤنٹ کو بند کردیا۔

اگرچہ اس دوران مختلف افراد کی جانب سے اس ویڈیو کو ریکارڈ کرکے محفوظ کرلیا گیا اور بعد میں اسے سوشل میڈیا پر اپ لوڈ کیا گیا، جو دیکھتے ہی دیکھتے وائرل ہوگئی۔

تاہم متعدد افراد کی جانب سے ڈالی گئی اس ویڈیو کو فیس بک، ٹویٹر اور یوٹیوب نے اپنی پالیسی کے خلاف قرار دیتے ہوئے ڈیلیٹ کرنا شروع کردیا، یہاں تک اس ویڈیو کو ڈالنے والےکچھ اکاؤنٹس کو عارضی پر بند کیا گیا، جسے بعد میں ویڈیو ہٹا کر کھول دیا گیا۔

میاں گارلک کا کہنا تھا کہ فیس بک ' حملہ آور یا حملہ آوروں کے بارے میں ہم باخبر ہیں اور جرم کی حمایت یا اسے پھیلانے والے واقعے کو ہٹا رہے' ہیں۔

دوسری جانب ٹویٹر کا کہنا تھا کہ انہوں نے حملہ آور سے متعلق اکاؤنٹ کو معطل کردیا اور وہ اپنے پلیٹ فارم سے ویڈیو کو ہٹانے کے لیے کام کر رہے ہیں۔

ادھر سرچ انجن گوگل کے ترجمان کے مطابق یوٹیوب 'حیران کن، پرشدد اور گرافک مواد' کو فوری طور پر ویب سائٹ سے ہٹا رہا ہے۔ نیوزی لینڈ کی جانب سے سوشل میڈیا صارفین سے کہا گیا کہ اس طرح کی فائرنگ کی ویڈیو شیئر نہ کریں۔

اگرچہ اس ویڈیو کو زیادہ تر مخصوص ہیش ٹیگ کے ساتھ استعمال کرنے پر زیادہ تیزی سے ڈیلیٹ کیا گیا کیونکہ اس سے صارف کی جانب سے اپ لوڈ کی گئی ویڈیو تک رسائی آسانی سے ممکن ہوجاتی ہے۔

تاہم یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ کیا سماجی رابطوں کی ویب سائٹ کا یہ 'ضابطہ کار' تمام ممالک کے لیے یکساں ہے تو شاید ایسا نہیں ہے کیونکہ اگر آپ ان ویب سائٹ پر نظر دوڑائیں تو آپ کو دہشت گردی کے واقعات کی مختلف ویڈیوز اب بھی ان ویب سائٹ پر مل جائیں گی جسے ڈیلیٹ نہیں کیا گیا۔

ان ویب سائٹ کی پالیسی میں مبینہ طور پر مشرق اور مغرب کی تفریق نظر آتی ہے اور اگر اس طرح کا کوئی واقعہ مشرق یا یو کہیں کہ جنوبی ایشیا، وسطی ایشیا، مشرق وسطیٰ کے کسی ملک میں ہو تو اس کی ویڈیو کو اتنی تیزی سے ہٹایا نہیں جاتا لیکن اگر یہی واقعہ کسی یورپی ملک یا امریکا کے کسی خطے میں ہو تو فوری طور پر اس کی ویڈیو کو نا صرف ہٹایا جاتا ہے بلکہ صارف کو انتباہ بھی جاری کردیا جاتا ہے۔

اسی طرح اگر کوئی مسلم ملک کے شہریوں کی جانب سے کہیں پر ہونے والے ظلم کی تصاویر یا ویڈیو شیئر کی جاتی ہیں تو اسے بھی فیس بک اور ٹویٹر اپنی پالیسی کے خلاف دیتے ہوئے ڈیلیٹ کردیتے ہیں جبکہ مغربی ممالک کے لیے مبینہ طور پر یہ رجحان نہیں دیکھا گیا۔

اگر آپ سوشل میڈیا پر سرچ کریں گے تو آپ کو شام، عراق، افغانستان، یمن اور مختلف ممالک میں ہونے والے دہشت گردی کے واقعات کی ویڈیوز کو دیکھ سکتے ہیں جبکہ یہ ویڈیوز بھی سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کے ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی ہے۔

سماجی رابطوں کی ویب سائٹ کی مبینہ طور پر اس دو طرفہ پالیسی کی واضح مثال بھارتی جبر سے کشمیری نوجوان برہان وانی کی شہادت کے بعد کی تھی۔

برہان وانی کی بات کی جائے تو 8 جولائی 2016 کو بھارتی فورسز نے مقبوضہ کشمیر میں حزب المجاہدین کے نوجوان کمانڈر برہان مظفر وانی کو شہید کردیا تھا۔

جس کے بعد بھارت مخالف اور برہان وانی کی حمایت میں سوشل میڈیا پر ایک مہم کا آغاز ہوا تھا اور صارفین اپنے جذبات کا اظہار کرتے ہوئے پوسٹ کررہے تھے۔

تاہم فیس بک نے اس دوران برہان وانی کی تصاویر اور ان سے منسلک مختلف پوسٹس کو نا صرف ہٹایا تھا بلکہ کچھ اکاؤنٹس کو عارضی طور پر معطل بھی کردیا تھا۔

اسی دوران پاکستانی فلم انڈسٹری کے اداکار اور سوشل میڈیا پر متحرک رہنے والے حمزہ علی عباسی کے برہان وانی سے متعلق پوسٹ کو ڈیلیٹ کردیا گیا تھا جبکہ اداکار کے بقول ان کے اکاؤنٹ کو بھی کچھ وقت کے لیے معطل کیا گیا تھا۔

فیس بک انتظامیہ کی جانب سے ایسا پہلی مرتبہ نہیں کیا گیا تھا بلکہ اس سے قبل پیرس میں چارلی ہیبدو حملے کے بعد بھی حمزہ علی عباسی کی پوسٹ کو ہٹایا گیا تھا۔



آپ کیلئے تجویز کردہ خبریں‎‎

مقبول ٹیگ‎‎‎