نیوزی لینڈ میں اب تک ہونے والے دہشت گردی کے بڑے واقعات

جنوب مغربی بحرالکاحل کے جزیرہ نما ملک نیوزی لینڈ تیسرے بڑے شہر کرائسٹ چرچ کی 2 مساجد میں 15 مارچ کو ہونے والے دہشت گرد حملوں کو اب تک دنیا نیوزی لینڈ کا سب سے بڑا حملہ قرار دیا جا رہا ہے۔


نیوزی لینڈ کی وزیر اعظم جیسنڈا آرڈن نے ان حملوں کو دہشت گردی قرار دیا ہے جب کہ کئی سیاست دانوں نے اسے ملک کا سیاہ دن بھی قرار دیا ہے۔

ماضی میں برطانوی سلطنت کے زیر تسلط رہنے والے اس ملک کو دنیا کی پر امن ترین ممالک میں بھی شمار کیا جاتا ہے، جہاں دہشت گردی کے واقعات قدرے کم رونما ہوتے ہیں۔

تاہم ایسا بلکل بھی نہیں کہ نیوزی لینڈ میں کبھی کوئی نامناسب واقعہ پیش نہ آیا ہو یا اسے بھی دہشت گردی کا سامنا نہ کرنا پڑا ہو۔

نیوزی لینڈ کی گزشتہ 70 سالہ تاریخ میں کئی نامناسب واقعات پیش آئے، تاہم حیران کن طور پر کسی بھی نامناسب اور دہشت گردی کے واقعے میں کبھی بھی اتنے زیادہ افراد ہلاک نہیں ہوئے جتنے 15 مارچ کو مساجد پر کیےگئے حملوں میں لوگ جاں بحق ہوئے۔

اس ہولناک واقعے سے قبل 2007 میں نیوزی لینڈ کے اندر بڑے پیمانے پر دہشت گردانہ سرگرمیاں ہونے کی اطلاع پر حکومت تحرک میں آئی تھی۔

پولیس کی ان گرفتاریوں کو سماجی تنظیموں کی جانب سے تنقید کا نشانہ بھی بنایا جاتا رہا اور پولیس پر الزام لگا کہ اس نے غیر قانونی طریقے سے عام اور بے قصور افراد کو بھی گرفتار کیا ہے۔

اس طیارے کو نیوزی لینڈ میں رہنے والی صومالیہ کی پناہ گزین 34 سالہ لڑکی آشا علی نے اغوا کرنے کی کوشش کی تھی، جس نے طیارے کے عملے کے 2 ارکان کو چھریوں کے وار کرکے زخمی بھی کردیا تھا۔

طیارہ اغوا کرنے والی لڑکی نے پائلٹ کو دھمکی دی تھی کہ ان کے پاس بم موجود ہے، تاہم پائلٹ نے بہادری کا مظاہرہ کرتے ہوئے طیارے کو کرائسٹ چرچ ایئرپورٹ پر اتارا اور طیارے کو اغوا کرنے کی کوشش کو ناکام بنایا۔

بعد ازاں نیوزی لینڈ کی عدالت نے آشا علی کو مجرم قرار دیتے ہوئے 9 سال قید کی سزا سنائی۔

1985 میں نیوزی لینڈ نے دنیا سے ایٹمی ہتھیاروں کو پاک کرنے کے لیے پر امن مظاہرے شروع کیے اور نیوزی لینڈ نے اپنے مظاہروں میں خصوصی طور پر فرانس کے ایٹمی پروگرام کو مرکز بنایا۔

اس حملے کے بعد نیوزی لینڈ پولیس نے کارروائی کرتے فرانس کی خفیہ ایجنسیوں کے 2 اہلکاروں کو گرفتار کیا جن پر الزام تھا کہ انہوں نے دہشت گردانہ دھماکہ کروایا اور ان پر یہ الزام بھی لگایا گیا کہ انہوں نے مزید مظاہروں کے دوران بھی انہوں نے دھماکوں کی منصوبہ بندی کر رکھی تھی۔

نیوزی لینڈ کی عدالت نے گرفتار کیے گئے دونوں اہلکاروں کو مجرم قرار دیتے ہوئے 10 سال قید کی سزا سنائی۔

اس واقعے میں بھی مجموعی طور پر زیادہ سے زیادہ 3 افراد کے ہلاک ہونے کی اطلاعات تھیں۔

یہ دھماکہ شہر کی معروف کاروباری عمارت کے اندر سوٹ کیس بم کے ذریعے کیا گیا اور پولیس اس واقعے کی حتمی تفتیش کرنے میں ناکام رہی۔

1980 سے 1985 تک نیوزی لینڈ کو سخت مشکلات کا سامنا رہا اور وہاں ہر سال کوئی نہ کوئی نامناسب واقعہ پیش آتا رہا۔

رپورٹس کے مطابق کمپیوٹر سینٹر کو حکومت کی غلط پالیسیوں کی وجہ سے نشانہ بنایا گیا اور ابتدائی طور پر اس حملے کا مقصد سیاسی بتایا گیا۔

اگرچہ اس حملے میں بھی زیادہ ہلاکتیں نہیں ہوئیں، تاہم اس حملے سے حکومت کا ڈیجیٹل ڈیٹا متاثر ہوا اور حکومت کو اس سینٹر کو کئی سال تک بند کرنا پڑا۔

بعد ازاں پولیس نے اس حملے میں ملوث 22 سالہ سیاسی کارکن کو گرفتار بھی کیا جس پر جرم عائد کرکے اسے جیل کی سزا سنائی گئی۔

اس واقعے پر فلمیں بھی بنائی جا چکی ہیں۔

امریکا کی جانب سے ویتنام میں لڑی جانے والی جنگ میں نیوزی لینڈ اس کا اتحادی تھا، تاہم نیوزی لینڈ کا عوام اس اتحاد کا مخالف تھا۔



آپ کیلئے تجویز کردہ خبریں‎‎

مقبول ٹیگ‎‎‎