پشاور میٹرو میں ایک اور سنگین کوتاہی کا انکشاف، انتطامیہ سیوریج نظام بھول گئی

پشاور میٹرو منصوبے میں ناتجربہ کاری اور غفلت کے روز بروز نئے مناظر سامنے آرہے ہیں۔ گزشتہ دنوں ٹریک بنانے کے بعد انکشاف ہوا کہ وہ بس کے حساب سے تنگ بن گیا ہے جبکہ اب بلدیاتی ادارے نے منصوبے میں نکاسی آب کا انتظام نہ ہونے کا بھانڈا پھوڑ دیا ہے۔


واٹر اینڈ سنیٹیشن سروسز پشاور (پی ایس ایس پی) نے اس بارے میں بی آر ٹی منجمنٹ کو مراسلہ لکھ کر تحفظات کا اظہار کردیا ہے۔ پی ایس ایس پی زون تھری کے منیجر نے بی آر ٹی کے پروجیکٹ ڈائریکٹر کو لکھے گئے خط میں کہا ہے کہ جمرود جی ٹی روڈ سمیت متعدد علاقوں میں میٹرو ٹریک کی تعمیر کے دوران سڑک کے دونوں اطراف پرانے مین ہول بند کردئے گئے تھے۔

اس کے ساتھ ہی بی آر ٹی انتظامیہ کو یہ بھی ہدایت کی گئی تھی کہ منصوبے میں جہاں ضرورت ہو نکاسی آب کا انتطام کیا جائے مگر متعدد مرتبہ توجہ دلانے کے باجود اس پر کان نہیں دھرے گئے جس کے باعث پشاور کی سڑکوں پر نکاسی اور بارش کا پانی کھڑا ہوجاتا ہے جو ٹریفک کی روانی میں خلل کے ساتھ پیدل چلنے والے افراد کے لیے بھی تکلیف کا باعث بن رہا ہے۔

واٹر اینڈ سنیٹیشن سروسز پشاور نے اپنے مراسلہ میں ایک بار پھر زور دیا ہے کہ تعمیراتی کام کے دوران بند ہونے والے مین ہولز کھولے جائیں اور جہاں ضرورت ہو نئے مین ہولز کے ساتھ نکاسی کا مربوط نظام بنایا جائے۔

یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ پشاور میٹرو منصوبہ غفلت اور ناتجربہ کاری کے باعث تاخیر کے ساتھ ساتھ شدید عوامی تنقید کی زد میں ہے۔ گزشتہ دنوں یہ بات سامنے آئی تھی کہ متعدد مقامات پر ٹریک تعمیر کرنے کے بعد انتظامیہ کو احساس ہوا کہ وہاں سے میٹرو بس نہیں گزر سکتی جس کے باعث ٹریک دوبارہ توڑ کر تعمیر کی گئی۔



آپ کیلئے تجویز کردہ خبریں‎‎

مقبول ٹیگ‎‎‎