کرتار پور راہداری مذاکرات: ‘پاک-بھارت پیچیدگیوں کے باوجود آگے بڑھ رہے ہیں’

دفتر خارجہ ترجمان ڈاکٹر فیصل نے پاکستان اور بھارت کے درمیان گزشتہ دو ہفتوں کے دوران دوطرفہ تعلقات میں کئی رکاؤٹوں اور پیچیدگیوں کے باوجود کرتار پور راہداری کی بحالی کے لیے ہونے والے مذاکرات میں آگے بڑھ رہے ہیں۔


ڈان نیوز کے پروگرام نیوز وائز میں گفتگو کرتےہوئے کرتارپور راہداری پر بھارت سے ہوائے مذاکرت پر بات کرتے ہوئے ڈاکٹر فیصل نے کہا کہ ‘وزیراعظم پاکستان نے راہداری کی بحالی کے لیے جو وعدہ کیا تھا اس طرف سرگرمی سے بڑھ رہے ہیں، اس میں بہت ساری رکاؤٹیں ہیں، پاکستان اور بھارت کے دو طرفہ تعلقات میں کئی رکاوٹیں ہیں خاص طور پر پچھلے 15 دنوں میں لیکن ہم اس کے باوجود آگے بڑھ رہے ہیں’۔

بھارت سے مذاکرات کے حوالے سے آگاہ کرتے ہوئے کہا کہ ‘یہ اجلاس بڑا کامیاب رہا ہے اور اگلے منگل کو کرتارپور راہداری کی جگہ پر ٹیکنیکل ماہرین کی ملاقات ہوگی، ہم نے 28 تاریخ کہا تھا لیکن انہوں نے درخواست کی 2 تاریخ کو رکھیں، ہم نے دعوت دی کہ آپ اسلام آباد آجائیں لیکن انہوں نے کہا کہ ہم واہگہ میں کرنا چاہتے ہیں تو ہم نے کہا کہ ہماری دعوت ہے مگر آپ درخواست کررہے ہیں تو ہم واہگہ میں مل لیتے ہیں’۔

ڈاکٹر فیصل نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ ‘مذاکرات کے معاملے میں چونکہ وہ بہت حساس ہیں تو ہم بلاوجہ اصرار کرنا نہیں چاہیں گے، یہ بات چیت ہورہی ہے لیکن یہ بات ٹھیک ہے کہ یہ دو طرفہ جامع مذاکرات نہیں ہیں اور وہ آگے آسکتا ہے، ہم گفتگو سے مسائل حل کرنا چاہتے ہیں یہ ہماری پوزیشن ہے اور اگر کوئی گفتگو نہیں کرنا چاہے گا اور کوئی دوسرا راستہ اختیار کرنا چاہے گا تو اس کا برابر جواب دیا جائے گا جو آپ نے نے 27 تاریخ کو دیکھا’۔

بھارتی میڈیا میں دی گئی تفصیلات کے حوالے سے ایک سوال پر ان کا کہنا تھا کہ ‘عام طور پر جب مذاکرات چل رہے ہوں تو اس کی تفصیلات جاری نہیں کی جاتی اس لیے ہم نے ایک مشترکہ اعلامیہ جاری کیا اور واضح کیا کہ گفتگو آگے بڑھی ہے، اس میں کچھ معاہدے ہوئے ہیں اورباقی پر نہیں ہوا، ہم مخصوص تفصیلات جاری نہیں کی ان کی اندرونی مجبوریاں زیادہ ہیں اور ان کی خارجہ پالیسی پاکستان کی بنیاد پر ہے’۔

ان کا کہنا تھا کہ ‘دو طرفہ معاملات تو دوممالک کے درمیان تعاون سے ہوسکتے ہیں، اگر ہندوستان ہمارے ساتھ آگے نہیں چلنا چاہتا ہے تو ہم کہاں لے کر جائیں گے، یہ راہداری تو سکھ برادری کے لیے ہے اور ہمسایہ ہمارا ہندوستان ہے اور ہم کہتے ہیں مذاکرات ہونے چاہیے اور یہ سمجھنا پڑے گا کہ ہم کس نوعیت کے تعلقات چاہتے ہیں اور وہ ہم سے کس نوعیت کے تعلقات چاہتے ہیں’۔

ڈاکٹر فیصل نے کہا کہا ‘اگر ہم آگے بڑھتے ہیں تو یہ قدم بہت سے اچھے اور طاقت ور اقدامات کا پیش خیمہ ہوسکتے ہیں، اگر ہم آگے نہیں بڑھتے اور ایک دوسرے پر اعتماد کرنے کو تیار نہیں تو ہم بڑے مسائل پر کیسے آگے بڑھ سکتے ہیں’۔

کرتارپور کے علاوہ دیگر مذہبی مقامات کو کھولنے کے حوالے سے ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ ‘پہلے یہ معاملہ مکمل ہوجائے اس کے بعد ہم کچھ اور سوچ سکتے ہیں، اگر یہ چل پڑتا ہے، لوگ آکر باباصاحب میں سلام کرکے واپس جاتے ہیں تو اس سے بہت سارے راستے کھلیں گے اور کئی مواقع پیدا ہوں گے اگر یہ نہیں چل سکتا تو اور کسی کا سوال ہی نہیں ہے’۔

ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ ‘ہم تو ہندوستان کے ساتھ تمام معاملات میں بات کرنا چاہتے ہیں اسی سلسلے میں وزیراعظم نے ستمبر میں بھارتی وزیراعظم کو چھٹی لکھی تھی جس میں واضح تھا کہ ہم جموں و کشمیر پر بات کرنا چاہتے ہیں، سرکریک، سیاچین بھی حل کرنا چاہتے ہیں، مذہبی سیاحت اور تجارت پر بات کرنا چاہتے ہیں اورسارک سمیت تمام معاملات پر آگے بڑھنا چاہتے ہیں’۔

ان کا کہنا تھا کہ ‘ہم معاملات کو حل کرنا چاہتے ہیں ا س کے لیے ایک چیز گفتگو کا ہونا لازم اور ضروری ہے، بات چیت کیے بغیر ہم معاملات کو حل نہیں کرسکتے ہیں’۔

یاد رہے کہ گزشتہ روز کرتار پور راہداری معاہدے کو حتمی شکل دینے کے لیے پاکستانی وفد کے بھارتی حکام کے ساتھ اٹاری میں ہونے والے مذاکرات کے بعد ترجمان دفتر خارجہ کا کہنا تھا کہ بھارت سے مذاکرات بہت مثبت رہے، پاکستان اور بھارت کا 3 سال بعد مشترکہ اعلامیہ جاری ہونا ایک بڑی کامیابی ہے۔

بھارتی حکام کے ساتھ مذاکرات کے بعد واہگہ پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے دفتر خارجہ کے ترجمان کا کہنا تھا کہ کرتار پور راہدری کے معاملے پر دونوں ممالک کے درمیان بعض امور پر اختلاف ہے تاہم 2 اپریل کو بھارت کے ساتھ دوبارہ مذاکرات ہوں گے، جس کے بعد معاملے کا حل نکل آئے گا۔

ترجمان دفتر خارجہ ڈاکٹر فیصل نے نیوزی لینڈ میں دہشت گردی کے واقعے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں جو معلومات ملی ہیں ان کے مطابق 4 پاکستانی زخمی ہیں جن کو گولیاں لگی ہیں جن کا ہسپتال میں علاج ہورہا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ 5 پاکستانی لاپتہ ہیں جن کی تفصیلات ہمیں نہیں ملی ہیں اور نہ ہی ان کے مصدقہ نام ہمیں ملے ہیں اور جب تک ہمارے سفارت خارنے اور مقامی حکام سے نام نہیں ملتے اس وقت میڈیا ذمہ داری کا مظاہرہ کریں کیونکہ یہ انسانی جانوں کا معاملہ ہے۔



آپ کیلئے تجویز کردہ خبریں‎‎

مقبول ٹیگ‎‎‎