افغانستان: گلبدین حکمت یار انتخابی دوڑ میں شامل

افغانستان کے جنگجو رہنما اور حزب اسلامی کے سربراہ گلبدین حکمت یار نے رواں برس جولائی میں ہونے والے صدارتی انتخابات میں حصہ لینے کا اعلان کیا ہے۔


گلبدین حکمت یار کے جنگجوؤں نے 1990 کی خونی خانہ جنگی میں ہزاروں افراد کو قتل کیا تھا اور وہ 2016 میں جلاوطنی سے واپسی کے بعد سے ایک متنازع شخصیت رہے ہیں۔

تجزیہ کاروں کی جانب سے گلبدین حکمت یار کے صدارتی انتخاب میں حصہ لینے کے فیصلے کو اپنی جماعت حزب اسلامی پارٹی کو قانونی قرار دیئے جانے کی کوشش کے طور پر دیکھا جارہا ہے۔

انہیں افغانستان میں بہیمانہ خانہ جنگی کے دوران شدید ظلم و زیادتی کرنے کا ذمہ دار ٹھہرایا جاتا ہے جس کی وجہ سے اکثر افغانیوں نے 1996 میں اس امید کے تحت طالبان کا خیرمقدم کیا کہ وہ ملک میں قانون کی حکمرانی قائم کریں گے۔

بعد ازاں افغان صدر اشرف غنی نے گلبدین حکمت یار سے امن معاہدہ طے کیا تھا اور امریکا کی جانب سے بھی اس معاہدے کا خیرمقدم کیا گیا تھا۔

2016 میں اشرف غنی کی حکومت نے گلبدین حکمت یار کو عام معافی دی تھی۔

گلبدین حکمت یار نے صدارتی انتخاب لڑنےکا اعلان کرتے ہوئے قیام امن میں کردا ر ادا کرنے کا عندیہ دیا ہے، انہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت طالبان کے ساتھ جنگ ختم کرنے میں ناکام ہوگئی۔

کابل میں ایک نیوز کانفرنس میں ان کا کہنا تھا کہ’ موجودہ حالات میں ملک کو عوام کی اکثریت سے منتخب کردہ صدر کی قیادت میں ایک طاقت ور مرکزی حکومت کی ضرورت ہے ‘۔

افغانستان میں رواں برس جولائی میں ہونے والے صدارتی انتخابات میں طالبان کی جانب سے ملک کے بڑے حصوں میں سیکیورٹی چیلنجز کا بھی سامنا ہے۔

مزید برآں یہ انتخابات الیکشن حکام کے لیے ایک مشکل مرحلہ ہیں جنہیں گزشتہ برس اکتوبر میں شفاف اور آزاد پارلیمانی انتخابات کے انعقاد میں ناکامی پر تنقید کا سامنا تھا۔

خیال رہے کہ 2014 میں ہونے والے صدارتی انتخابات کو بھی دھاندلی زدہ قرار دیا گیا تھا جس میں موجودہ صدر اشرف غنی فتح یاب ہوئے تھے۔

افغانستان میں صدارتی انتخابات کی تیاریاں زور و شور سے جاری ہیں جس میں اکثر سابق افسران اور سیاستدان بھی اشرف غنی کے مد مقابل ہیں۔

افغان صدر کی جانب سے دوسری صدارتی مدت کے لیے بطور انتخابی امیدوار آج 20 جنوری کو رجسٹریشن کروائے جانے کا امکان ہے۔



آپ کیلئے تجویز کردہ خبریں‎‎