اینی موجی بمقابلہ اے آر ایموجی

دنیا میں ہر آئے دن حریف کمپنیاں ایک دوسرے کو پیچھے چھوڑنے کے چکر میں جہاں ایک سے بڑھ کر ایک فیچر متعارف کرا رہی ہیں۔


وہیں ان فیچرز سے انسانوں کی زندگی میں بھی جہاں آسان ہوتی جا رہی ہے، وہیں لوگ زیادہ سے زیادہ وقت موبائلز اور کمپیوٹر آلات پر گزارنے لگے ہیں۔

اسمارٹ موبائل بنانے والی دنیا کی سب سے بڑی 2 کمپنیوں یعنی جنوبی کوریا کی سام سنگ اور امریکا کی ایپل میں یوں تو ہمیشہ ہی مقابلہ رہتا ہے۔

تاہم رواں سال ان کمپنیوں کی جانب سے متعارف کرائے گئے اپنے سب سے بہترین موبائل یعنی آئی فون ایکس اور سام سنگ ایس 9 اور ایس پلس میں بھی ایک دوسرے جیسے فیچر متعارف کرائے گئے۔

جہاں ان دونوں موبائل کے زیادہ تر فیچرز ایک دوسرے سے ملتے جلتے تھے، وہیں ان دونوں موبائلز میں اینی موجی اور ایموجیز کے ملتے جلتے فیچر بھی دیے گئے۔

ایپل نے اپنے سب سے بہترین فون میں تھری ڈی اینی موجی کا فیچر دیا، جو کسی بھی انسان کے چہرے کو تھری ڈی کارٹون کی شکل میں بدلنے کا کام کرتا ہے۔

یہ فیچر جہاں ہر انسان کو تھری ڈی کارٹون کی شکل میں تبدیل کرنے کا کام کرتا ہے، وہیں اسی فیچر کو فون کو لاک اور آن کرنے کے لیے بھی استعمال کیا جاتا ہے۔

اس فیچر کی سب سے اہم بات یہ ہے کہ اس کا تھری ڈی سسٹم ہر وہ ہروقت ڈیجیٹل انداز میں پیش کرتا ہے جو انسان کرتا ہے اور صارف اس فیچر کی مدد سے اپنی مختصر تھری ڈی ویڈیو اور جف بنا کر سوشل میڈیا اور میسیجز کے ذریعے دوسروں کے ساتھ شیئر کر سکتا ہے۔

تاہم اس فیچر کے حوالے سے کہا جا رہا ہے کہ اس میں کچھ خرابیاں ہیں، جیسے اگر کوئی انسان بیک وقت ایک آنکھ بند کرے تو یہ فیچر اس ایک آنکھ کو بند کرتے ہوئے نہیں دکھاتا۔

اسی طرح ایپل کے اینی موجی فیچرمیں چھوٹی چھوٹی مشکلات ہیں، تاہم سام سنگ کے آرٹیفیشل انٹیلی جنس (اے آر) ایموجی فیچر میں ایسا نہیں۔

سام سنگ کا اے آر ایموجی فیچر جہاں انسان کی ہر حرکت کو نوٹ کرکے اسے تھری ڈی کارٹون میں بدلتا ہے، وہیں اس فیچر میں ایڈیٹنگ کے ذریعے بھی پسندیدہ تھری ڈی کارٹون بنانے کی سہولت دستیاب ہے۔

اسی طرح اگر کوئی صارف اس فیچر کو استعمال کرتے وقت اپنی ایک آنکھ بند کرتا ہے تو سام سنگ کا اے آر ایموجی فیچر تھری ڈی کارٹون میں ایک آنکھ ہی بند دکھاتا ہے۔

سام سنگ کے اے آر ایموجی کو بھی فون کو لاک اور آن کرنے میں استعمال کیا جا سکتا ہے، علاوہ ازیں اس ایموجی کی بھی مختر ویڈیو یا جف بنا کر اسے دوستوں کے ساتھ بھی شیئر کیا جاسکتا ہے۔



آپ کیلئے تجویز کردہ خبریں‎‎