چیف جسٹس کی عوام کیلیے ایک اور خوشخبری

چیف جسٹس پاکستان میاں ثاقب نثار نے ڈی سی لاہور کو شادی ہالوں کے اوقات کار میں ایک گھنٹے کی توسیع سے متعلق غور کرنے کے لیے تجویز پیش کر دی اور ریمارکس دیئے کہ خواتین گوٹے والے لباس پہن کر جتن کرتی ہیں اور ٹریفک میں پھنسی رہتی ہیں۔


سپریم کورٹ لاہور رجسٹری میں شادی ہال کے اوقات کار میں ایک گھنٹہ کا اضافہ کرنے سے متعلق چیف جسٹس، لارڈ میئر اور ڈی سی لاہور میں دلچسپ مکالمہ ہوا۔

یہ مکالمہ اس وقت ہوا جب چیف جسٹس نے کھوکھر برادران سے متعلق کیس کی سماعت میں لارڈ میئر سے استفسار کیا کہ، مجھے یاد آیا لارڈ مئیر صاحب آپ شادی ہالوں کے اوقات میں ایک گھنٹے کا اضافہ کیوں نہیں کر دیتے؟

چیف جسٹس نے کہا کہ 8 سے 10 بجے شادی ہالوں کا وقت ہوتا ہے اور ادھر ٹریفک جام ہوتا ہے، خواتین گوٹے والے لباس پہن کر جتن کرتی ہیں اور ٹریفک میں پھنسی رہتی ہیں۔

جسٹس ثاقب نثار نے نشاندہی کی کہ لوگ ٹریفک میں پھنسے رہتے ہیں جب پہنچتے ہیں تو ہالوں کی بتیاں بند ہو جاتی ہیں، چیف جسٹس نے تجویز دی کہ چاہے شادی کی تقریب کے اوقات میں پیچھے سے ایک گھنٹہ کم اور آگے ایک گھنٹہ بڑھا دیں۔

عدالت میں موجود لارڈ مئیر نے جواب دیا کہ شادی کی تقریب کے اوقات کار میں تبدیلی کا اختیار بھی ڈی سی لاہور کا ہے جس پر چیف جسٹس نے ڈی سی لاہور سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا کہ بیٹا، آپ اس پر غور کریں اور شادی ہالوں کے اوقات میں ایک گھنٹہ بڑھا دیں۔



آپ کیلئے تجویز کردہ خبریں‎‎