ڈپریشن کا ایک اور بڑا نقصان سامنے آگیا

ڈپریشن یا زندگی سے مایوسی وہ عارضہ ہے جو کسی بھی فرد کے لیے جینا مشکل بنادیتا ہے اور مختلف جسمانی عارضے بھی لاحق ہوسکتے ہیں۔


مگر ڈپریشن دماغی عمر کی رفتار کو بھی پر لگادیتا ہے۔

یہ انکشاف اس خیال پر پہلی بار انسانوں پر کی جانے والی تحقیق میں سامنے آیا۔

امریکا کی یالے یونیورسٹی کی تحقیق میں دماغ اسکین کرنے والی نئی تیکنیک کو استعمال کرتے ہوئے دریافت کیا گیا کہ ڈپریشن کے شکار افراد میں دماغی کنکشن کی تعداد 10 سال پہلے ہی کمزور ہوجاتی ہے اور 40 سال کی عمر میں ان کی دماغی عمر 50 سے تجاوز کرسکتی ہے۔

آسان الفاظ میں ڈپریشن کے نتیجے میں درمیانی عمر میں یاداشت سے محرومی، دماغی دھند، بولنے میں مشکلات اور الزائمر کی ابتدائی علامات جیسے خطرات کا سامنا ہوسکتا ہے۔

تحقیق میں بتایا گیا کہ اس سے عندیہ ملتا ہے کہ خواتین جو مردوں کے مقابلے میں ڈپریشن کا زیادہ شکار ہوتی ہیں، ان میں الزائمر کا خطرہ بھی مردوں کے مقابلے میں تین گنا زیادہ ہوتا ہے۔

محققین نے مزید بتایا کہ ان نتائج سے دماغی حصوں کو امراض سے بچانے کے لیے ادویات کی تیاری میں مدد مل سکے گی۔

اس تحقیق میں 10 رضاکاروں کی خدمات حاصل کی گئی تھیں مگر اب محققین بڑے پیمانے پر اسے کرنے کی منصوبہ بندی کررہے ہیں۔

محققین نے بتایا گیا کہ ہم اس سے پہلے یہ جان نہیں سکے تھے کہ کیونکہ انسانوں پر اس خیال کی آزمائش نہیں کی گئی تھی۔

ان کا کہنا تھا کہ اب ڈپریشن کو دماغی عمر میں اضافے کی علامت بھی سمجھا جاسکتا ہے تاکہ انہیں زیادہ سنگین عارضے سے بچایا جاسکے۔

انسانی دماغ میں سو ارب نیورونز ہوتے ہیں اور ہر ایک 10 ہزار دیگر نیورونز سے جڑا ہوتا ہے۔

تو زندگی میں جیسے بھی تجربات ہوتے ہیں، وہ دماغ پر اثرانداز ہوتے ہیں اور عمر بڑھنے سے بھی نیورونز کا تعلق کمزور ہونے لگتا ہے۔



آپ کیلئے تجویز کردہ خبریں‎‎

مقبول ٹیگ‎‎‎