تبدیلی سرکار کا ایک اور بڑے دعوے پر یوٹرن

راولپنڈی: صوبائی اسمبلیوں کے اراکین کو ترقیاتی فنڈز نہ دینے کے دعوے سے پیچھے ہٹتے ہوئے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی حکومت پنجاب نے اپنے ہر رکنِ صوبائی اسمبلی کے لیے 10 کروڑروپے مختص کرنے کا فیصلہ کرلیا۔


واضح رہے کہ ماضی میں پی ٹی آئی، مسلم لیگ (ن) کو اراکینِ اسمبلی کے ذریعے ترقیاتی فنڈز کے استعمال پر تنقید کا نشانہ بناتی تھی لیکن اب خود پنجاب میں اقتدار سنبھالنے کے بعد پی ٹی آئی نے اپنے اراکینِ صوبائی اسمبلی سے ترقیاتی تجاویز طلب کرلیں۔

اس سلسلے میں پارٹی کے ایک سینئر رہنما نے ڈان سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ اراکینِ صوبائی اسمبلی نے ترقیاتی تجاویز جمع کروادی ہیں لیکن مالی مشکلات کے سبب فنڈز جاری نہیں ہوسکے۔

انہوں نے بتایا کہ پی ٹی آئی کی پارلیمانی کمیٹی کا اجلاس لاہور میں پیر کو (آج) ہوگا جس میں حکمراں جماعت کے اراکین اسمبلیوں کے علاقوں میں درپیش مسائل پر گفتگو کی جائے گی۔

اس کے ساتھ اراکینِ اسمبلی نے عوام کی مشکلات کے حل کے لیے علاقے کے سینئر افسران کے تعاون نہ کرنے پر بیوروکریسی کا معاملہ اٹھانےکا بھی فیصلہ کیا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ اراکینِ اسمبلی اپنے علاقوں میں نئے ترقیاتی منصوبے شروع کرنا چاہتے ہیں تاکہ خاص کر ان یونین کونسلوں میں جو مسلم لیگ(ن) کے دورِ حکومت میں نظر انداز کردی گئیں تھیں۔

سینئر رہنما کا مزید کہنا تھا کہ پی ٹی آئی بلدیاتی حکومت کے نظام میں بھی تبدیلی چاہتی ہے کیوں موجودہ نظام میں تمام میونسپل کارپوریشنز اور ضلعی کونسلز میں اراکین کی اکثریت مسلم لیگ (ن) سے تعلق رکھتی ہے۔

چناچہ بلدیاتی حکومت کے قانون میں تبدیلی صوبائی اسمبلی کے ذریعے ہی کی جاسکتی ہے لیکن اس کے لیے پی ٹی آئی کے پاس ایوان میں مطلوبہ اکثریت موجود نہیں۔

اس صورتحال میں صوبائی اسمبلی نے ہر حکومتی رکن اسمبلی کے لیے 10 کروڑ روپے مختص کرتے ہوئے ان سے ترقیاتی تجاویز طلب کیں۔

اس ضمن میں پی ٹی آئی کے رکنِ صوبائی اسمبلی چوہدری عدنان نے ڈان سے گفتگو کرتے ہوئے بتایاکہ ہم نے حکومتِ پنجاب کو ترقیاتی تجاویز جمع کروادی ہیں اور اس سلسلے میں جلد فنڈز جاری ہوجائیں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ انہیں متعدد علاقوں میں ترقیاتی منصوبے شروع کرنے کی اشد ضرورت ہے کیوں کہ گزشتہ حکومت صرف کیشن کے لیے منصوبے شروع کرنے میں مصروف رہی تھی۔



آپ کیلئے تجویز کردہ خبریں‎‎