پی آئی اے کے پائلٹس کے بارے میں بڑا انکشاف

لاہور: سول ایوی ایشن اتھارٹی (سی اے اے) نے سپریم کورٹ بینچ کے سامنے انکشاف کیا کہ پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائن (پی آئی اے) کے 7 پائلٹس کی تعلیمی قابلیت جعلی ہے، ان میں سے 5 افراد نے میٹرک تک نہیں کیا۔


جس پربینچ کے رکن جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیے کہ ایک نان میٹرک فرد بس تک نہیں چلا سکتا اور مڈل پاس افراد جہاز چلا کر مسافروں کی زندگیاں خطرے میں ڈال رہے ہیں۔

چیف جسٹس پاکستان میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں3 رکنی بینچ نے قومی ایئر لائن کے پائلٹس اور عملے کی ڈگریوں کی تصدیق کے حوالے سے کیس کی سماعت کی۔

اس موقع پر سی اے اے کے قانونی مشیر نے بینچ کو بتایا کہ تعلیمی بورڈ اور یونیورسٹیوں کے عدم تعاون کی وجہ سے ادارے کو ڈگریوں کے تصدیقی عمل میں مشکلات کا سامنا ہے۔

ان کا عدالت میں مزید کہنا تھا کہ پی آئی اے بھی پائلٹس اور کیبن کریو سمیت اپنے دیگر ملازمین کا ریکارڈ فراہم کرنے میں سستی کا مظاہرہ کررہی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ اب تک 4 ہزار 3 سو 21 ملازمین کی ڈگریوں کی تصدیق کا عمل مکمل کرلیا گیا ہے جبکہ 402 افراد کا تصدیقی عمل التوا کا شکار ہے۔

سماعت میں پی آئی اے کے ایک افسر نے عدالت کو آگاہ کیا کہ تقریباً 50 ملازمین کو اپنے دستاویزات فراہم نہ کرنے کی وجہ سے معطل کیا جاچکا ہے۔

جس پر عدالت نے سی اےا ے کی وکیل کو ہدایت کی کہ سپریم کورٹ کےکانفرنس روم میں پی آئی اے حکام، تعلیمی بورڈز اور یونیورسٹی کے نمائندوں کا اجلاس بلایا جائے تا کہ التوا کا شکار کیسز کا حل تلاش کیا جائے۔

بعدازاں سماعت میں وقفہ ہوا جس کے بعد ہونے والی سماعت میں سی اے اے کی وکیل نے عدالت کو آگاہ کیا کہ صرف 207 ایسے کیسز ہیں جن کی تصدیق ہونا باقی ہے جس کے لیے انہوں نے عدالت سے مزید مہلت دینے کی درخواست کی۔

جس پر چیف جسٹس نے ان کی درخواست قبول کرتےہوئے سماعت 9 جنوری تک ملتوی کردی۔



آپ کیلئے تجویز کردہ خبریں‎‎