غیر ملکی خریداری سے انڈیکس میں 958 پوائنٹس کا اضافہ

کراچی: اسٹاک مارکیٹ میں حکومت کی کاروبار دوست معاشی اصلاحات، سعودی عرب سے 3 ارب ڈالر کی آخری قسط موصول ہونے اور 1 کروڑ 70 لاکھ روپے کی ایکوئٹی کی خریداری میں غیر ملکی سرمایہ کاروں کی دلچسپی کی وجہ سے تیزی دکھائی دی۔


کے ایس ای 100 انڈیکس کاروباری ہفتے کے آخری روز 958 پوائنٹس اضافے کے ساتھ 40 ہزار 265 پوائنٹس پر بند ہوا اور یہ لگاتار چوتھا ہفتہ تھا جہاں انڈیکس میں مثبت رجحان سامنے آیا۔

دوسرے مڈ ٹرم بجٹ یا فنانس ترمیمی بل 2019 میں کاروبار کرنے اور بر آمدات کے شعبوں میں آسانیاں سامنے آئیں جبکہ اسٹاک کی بات کی جائے تو اس کا 0.02 فیصد کا ایڈوانس ٹیکس کا خاتمے کا مطالبہ بھی منظور کیا گیا اور حکومت نے کیپیٹل لوسز کو 3 سال تک آگے لے جانے کی بھی اجازت دی جس کی وجہ سے بروکرز اور سرمایہ کاروں پر مثبت اثر سامنے آیا۔

دیگر اہم اقدامات جن میں نان بینکنگ کمپنیز پر سپر ٹیکس، بینکنگ ٹرانزیکشنز میں فائلرز کے لیے ود ہولڈنگ کا خاتمہ شامل ہے، کی وجہ سے ایکوئٹی کی تجارت کو حوصلہ ملا ہے۔

مارکیٹ کی شراکت داری میں واضح اضافہ سامنے آیا جہاں روزانہ کے حجم میں 43 فیصد اضافے کے ساتھ 168 شیئرز تک پہنچ گیا جبکہ تجارتی لاگت 32 فیصد اضافے کے ساتھ 5 کروڑ 30 لاکھ ڈالر تک پہنچ گئی۔

اسٹاک مارکیٹ میں بینک آف پنجاب کے حصص کا کاروبار سب سے نمایاں رہا جہاں 7 کروڑ 70 لاکھ شیئرز کی تجارت ہوئی۔

کے الیکٹرک 5 کروڑ 70 لاکھ حصص کے ساتھ دوسرے نمبر پر، 5 کروڑ 60 لاکھ حصص کے ساتھ پاکستان انٹرنیشنل بلک ٹرمینل تیسرے اور 4 کروڑ 40 لاکھ حصص کے ساتھ ٹی آر جی پاکستان چوتھے نمبر پر رہی۔

مارکیٹ پر نظر رکھنے والے ماہرین کے مطابق انڈیکس میں یہ اضافہ جاری رہے گا تاہم انہوں نے مارکیٹ کے شراکت داروں کو تجویز دی کہ حکومت کے کسٹم ڈیوٹیز، ریگولیٹری ڈیوٹیز اور گیس انفراسٹرکچر سے متعلق تنازع کے مستقبل کے حوالے سے آئندہ کے معاشی فیصلوں پر نظر رکھیں۔

مارکیٹ کی کارکردگی پر اثر ڈالنے والے دیگر عمل میں آئندہ ہفتے اعلان ہونے والی مانیٹری پالیسی، فوجی فرٹیلائزر، بینک الحبیب اور اینگرو پولیمر اینڈ کیمیکلز سمیت چند اہم کمپنیوں کے کاروبار کے مالیاتی نتائج اور انٹرنیشنل مانیٹری فنڈ پر وضاحت بھی باقی ہے۔

ان کے مطابق مثبت آمدنی اور منافع سے مخصوص اسٹاک میں بھی اضافہ ہوسکتا ہے۔



آپ کیلئے تجویز کردہ خبریں‎‎